پاکستان

عزاداری کے خلاف سازش : تین محرم کو وزیر اعلیٰ ہاوس کا گھیراو کریں گے، علامہ ناظر تقوی

شیعیت نیوز: شیعہ علماء کو نسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا نمائش چورنگی پر پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ محرم الحرام کا آغاز کل سے شروع ہوجائے گا لیکن شہر کراچی کے مختلف امام بار گاہوں اورعلاقوں میں حکومت سندھ کی بے حسی کے سبب گندگی اور کچٹرے کے انبار لگے ہوئے ہیں کراچی کا انفرا اسٹر یکچر تباہ کرنے میں بھی صوبائی حکومت براہ راست ملوث ہے سٹی ناظم بھی ہوائی بیانات پر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں تو دوسری جانب سندھ حکومت عزاداری کو تحفظ دینے کے بجائے اُس میں بے جا مداخلت کررہی ہے عزاداری سید الشہداء کا سلسلہ قیام پاکستان سے پہلے کا جاری و ساری ہے اور پورے پاکستان میں متعدد مجلس عزاء و جلوس عزاء کا سلسلہ کئی صدیوں سے جاری ہے اوریہ مجلس کا سلسلہ صرف شیعہ حضرات کی جانب سے نہیں بلکہ برادران اہل سنت بھی اس کا اہتمام کرتے ہیں حتیٰ کے سندھ کے مختلف اضلاع میں ہندوں مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تعزیے اور سبیلو ں کا اہتمام کرتے ہیں افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گز شتہ چند سالوں سے عزاداری امام حسین کو محدود کرنے اور اس کو روکنے کی شازشیں کی جارہی ہیں کبھی مجلس عزاء تو کبھی جلوس عزاء میں بم دھماکے کراکر خودکش حملوں اور ٹار گٹ کلنگ کے زریعے بھی کو شیش کی گی لیکن الحمد اللہ ان تمام سانحات کے با وجود مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور عوام نے کسی مسلک کے خلاف کوئی اقدام کیا اور نہ کسی فرقے کے خلاف کبھی کوئی بات کی بلکہ اس کے برقص حکمت دانش مندی اور صبروں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ملک کو انتشار تصادم کی طرف دھکیلنے کے بجائے ملک میں اخوت محبت اور بھائی چارگی کو فروغ دیا اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارا کردار پاکستان میں کسی بھی اداروں سے مخفی نہیں ہے ان تمام قر بانیوں کے باوجود حکومت سندھ کی جانب سے ایسے اقدامات کا اُٹھایا جانا جس سے عوام کی شہری آزادیوں اور اُن کے آئینی اور ان کے بنیادی حقوق سے روکنا متصبانہ عمل ہے ایسے ہتکھنڈوں اور ایسے احمقانہ اقدام سے ملک کی ٖفضاء بہتر ہونے کے بجائے انتشار اور تصادم کی طرف چلی جائے گی ہم علماء کرام حکومت پولیس ،رینجرز اور دیگر ذمہ دار اداروں کے ساتھ امن و امان کے قیام کے لئے تعاون کرنا چاہتے ہیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں حتیٰ کے ملک میں امن و امان کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی دینے کو تیار ہیں لیکن ہم یہ بات ہر گز بر داشت نہیں کریں گے کہ مجلس عزاء اور جلوس عزاء کو روکنے کے لئے ریاست اپنی طاقت کا غلط استعمال کرے اور رکشہ ،ٍٹکسیوں اور سبیلوں پر نوحے روکنے کے لئے لاٹھی چارج اورحراساں کیا جائے اور عزت دار شہریوں کو زلیل کیا جائے پولیس کی جانب سے قمبرشہزاد کورٹ کے ایس ایس پی کی جانب سے یہ عمل انجام دیا جارہا ہے جو ایک انتہائی حساس عمل ہے یہی صورتحال لاڑ کانہ ،سکھر،خیر پور،میر پور خاص اور سندھ کے دیگر اضلاع میں پیش آرہی ہے ایکوں ساونڈ والو کو بھی حراسا ں کیا جارہا ہے کہ وہ این او سی کے بغیر ساونڈ نہ دیں ان تمام اقدامات سے ایسا لگتا ہے کہ کہ حکومت اس سال محرم الحرام میں تصادم کرانا چاہتی ہے اور ملک میں فر قہ واریت کو ہوا دینا چاہتی ہے ہمیں میٹنگو ں میں کہا جاتا ہے کہ دوسرے مسلک کے لوگ ہمیں شکایت کرتے ہیں کہ ان مجالس اور نوحوں سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے جوکہ سراسر غلط بیانی پر مبنی ہے کیو نکہ برادران اہل سنت یہ عمل خود بھی انجام دیتے ہیں لہذا اس طرح کے اقدامات کسی بھی بڑے سانحے کو جنم دے سکتے ہیں ہم وزیر اعلیٰ سندھ ،آئی جی سندھ کو یہ بات باور کرانا چاہتے ہیں کہ عزاداری میں اس بے جا مداخلت کو روکنے کے لئے وہ اپنا کردار ادا کریں ہم وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وہ گز شتہ سالوں کی طرح اس سال بھی مجلس عزاء کو لوڈ اسپیکر سے مستثنیٰ قرار دیں اگر وزیر اعلیٰ سندھ نے پہلی محرم تک مجلس عزاء کو لوڈ اسپیکر سے مستشنیٰ قرار نہیں دیا تو تو تین محرم الحرام کو ہم وزیر اعلیٰ ہاوس کے گھیراوٗں کا اعلان کرتے ہیں ساتھ ہی ساتھ آئندہ جمعے کو سندھ بھر میں حکومت سندھ کی بے جا مداخلت اور شہریوں کو حراساں کرنے کے خلاف علامتی احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جائیں گے کراچی میں مرکزی مظاہرہ خوجہ مسجد کھارادر کے باہر کیا جائے گا

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close