کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
دنیا

قوام متحدہ کے سینئر عہدیدار نے میانمار کی فوج کو اجتماعی زیادتی اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا

برطانوی وزیراعظم کاکہناہےکہ روہنگیا مسلمانوں کو نسل کشی جیسی صورتحال کا سامنا ہے،میانمار کی انتظامیہ اور فوج کو حالات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی ۔ تاہم میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد، قتل اور اجتماعی زیادتی کے واقعات سے خود کو بری الذمہ قراردیدیا ہے ۔

میانمار کی فوج کی رپورٹ میں 6 لاکھ مسلمانوں کے ملک چھوڑنے کے ذمہ دار فوجی جنرلوں کے تبادلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے ۔

لیکن عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ میانمار میں ریاستی مظالم سے بچنے کے لئے نقل مکانی کرنے والے روہنگیا خاندانوں میں خواتین کی بڑی تعداد کو میانمار کی فوج نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

جنگوں میں جنسی تشدد کے حوالے سے اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ پرامیلا پاٹن نے بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کو 45 دن تک قید میں رکھا گیا اور مسلسل زیادتی کی گئی، کئی کو سرعام برہنہ کیا گیا۔ کئی کے جسم پر بدترین زخموں کے نشان پائے گئے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میانمارکی فوج جنسی تشدد کو نسل کشی کے ہتھیارکے طور پر استعمال کررہی ہے، معاملہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اٹھایا جائے گا۔

پرمیلا پاٹن نے کہا کہ اب تک ایک ہزار 644 خواتین کو امداد دی جاچکی ہے جبکہ متاثرین کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر 10 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close