کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
مقالہ جات

پیغمبر اسلام (ص) کی اپنے اہلبیت (ع) سے محبت نیز اخلاق، نیکی اور مہربانی پر تاکید

اٹھائيس صفر المظفر بانی اسلام ، خاتم النبیین ،رحمت للعالمين ، مرسل اعظم نبي مکرم حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي جانگداز رحلت اور آپ کے بڑے نواسے حضرت امام حسن عليہ السلام کي شہادت کا دن ہے آج پورا عالم اسلام بلکہ پوري کائنات غم و اندوہ کے سياہ لباس ميں غمگين و سوگوار ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) بن عبداللہ بن عبدالمطّلب بن ہاشم، اللہ تعالی کے آخری پیغمبر ہیں آپ، اولوالعزم انبیاء میں سب سے افضل ہیں آپ کا اہم ترین معجزہ قرآن ہے. آپ یکتا پرستی کے منادی اور اخلاق کے داعی ہیں. نیز سربراہ حکومت، قانون ساز، سماجی مصلح اور افواج کے سربراہ تھے. گوکہ آپ عرب کے مشرک معاشرے میں پیدا ہوئے تھے تاہم اپنی زندگی کے دوران بتوں کی پرستش سے دوری کرتے تھے اور معاشرے میں رائج اخلاقی برائیوں اور قباحتوں سے پرہیز کرتے تھے.

آپ کا اہم ترین پیغام توحید اور یکتا پرستی کی طرف دعوت تھا ۔ مکہ کے مشرکین نے آپ کو اور آپ کے پیروکاروں کو کئی سال تک تشدد اور اذیت و آزار کا نشانہ بنایا مگر آپ اور آپ کے پیروکار کبھی بھی اسلام سے دستبردار نہ ہوئے ۔ رسول خدا(ص) کی کوششوں سے عربوں کا جاہلیت زدہ معاشرہ مختصر سے عرصے میں ایک توحیدی معاشرے میں بدل گیا اور تقریباً پورےجزیرہ نمائے عرب نے آپ کی حیات طیبہ کے دوران ہی اسلام قبول کرلیا. رسول خدا(ص) نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ آپ کے بعدقرآن اور اہل بیت (ع) کا دامن تھامے رکھیں اور ان سے ہرگز جدا نہ ہوں. اورآپ نے گوناگوں مواقع پر ـ منجملہ واقعہ غدیر میں امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

سنہ 11 ہجری کے ابتدائی مہینوں میں رسول اللہ(ص) بیمار ہوئے آپ کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو آپ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کی سفارش فرمائی اور فرمایا: اگر کسی کا مجھ پر کوئی حق ہے تو وہ مجھ سے وصول کرے یا بخش دے اور میں نے کسی کو آزردہ کیا ہے تو میں تلافی کے لئے تیار ہوں.

پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب سے وصیت لکھنے کے لئے قلم و دوات طلب کیا لیکن افسوس کے پیغمبر اسلام کو قلم و دوات نہیں دیا گيا اور نہ ہی دینے دیا گیا۔ پیغمبر اسلام نے زبانی وصیت کرتے ہوئے فرمایا: "ميرے بعد نماز ميں ہرگز کوتاہي نہ کرنا ، ماتحتوں کے ساتھ نيکي سے کام لينا جوبھي ميرا دين قبول کرے اس کا احترام کرنا اور ميرا سلام اس تک پہنچا دينا ، تقوائے الہي کے سائے ميں خلق خدا سے نيکي اور مہرباني سے پيش آنا ميں تم سب کو خدا کے حوالے کرتا ہوں ” اس وقت ، جيسا کہ حضرت علي نے نہج البلاغہ ميں فرمايا ہے۔ رسول اکرم (ص) کا سر مبارک حضرت علي کي آغوش ميں تھا ، امير المومنين فرماتے ہیں: ميرے ہاتھوں پر آنحضور (ص) کي جان نکلي ہے ميں نے آپ کے غسل کا اہتمام کيا فرشتوں نے اس کام ميں ميري مدد کي ، آپ کے غم ميں پورا گھر اور در و ديوار گريہ کناں تھے اور فرياد کررہے تھے ، ہرطرف آہ بکا کي آواز بلند تھي کچھ فرشتے آسمان سے اتر رہے تھے تو کچھ آسمان کي طرف واپس جا رہے تھے اور آپ پر پڑھي جانے والي نماز کي تکبيريں ايک لمحے کے لئے قطع نہيں ہورہي تھيں يہاں تک کہ ميں نے آپ کو سپرد لحد کرديا۔
یہ عظیم مصیبت دوشنبہ ۲۸ صفر سنہ ۱۱ ہجری قمری کو وارد ہوئی اور آنحضور (ص) کو ان کے گھر میں ہی سپرد خاک کیا گيا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close