پاکستان

ان کیمرہ اجلاس کی باتیں باہر جانے پر چیرمین سینٹ سینیٹرز پر برہم

شیعیت نیوز: چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے آرمی چیف کی اِن کیمرہ بریفنگ کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرنے والے اراکین سینیٹ کیخلاف کارروائی کیلئے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔چیئرمین نے کہا کہ آج پارلیمانی جماعتوں کے ارکان موجودگی میں آئندہ کیلئے قواعد و ضوابط بنائینگے،ہم ان کیمرہ اجلاس کی رازداری نہیں رکھ سکتےتو کل کوئی بھی ادارہ اہم قومی معاملات میں ہم پر اعتماد نہیں کریگا،بعض سینیٹرزنے میڈیامیں تفصیلات بیان کیں،اسکے تمام ترذمہ دارارکانِ سینیٹ ہیں، میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق نہیں بنائینگے۔ تفصیلات کے مطابق دوران اجلاس چیئرمین سینیٹ نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ امریکا کس خدمت کے عوض امداد د یتا ہے، کوئی وعدہ پورا کیا جاتا ہے یاامداد خیرات میں دیتے ہیں ؟ دوران اجلاس سوال کے جواب کیلئےوزیر شماریات کامران مائیکل کی عدم موجودگی پر چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مردم شماری پر بحث کے موقع پر بھی وہ غیر ملکی دورے پر تھے وہ پارلیمنٹ کے بزنس کو اولیت کیوں نہیں دیتے ۔وفاقی وزیر بلیغ الرحمٰن نے ایوان کو بتایا کہ پانچ سال میں 38کھرب روپے کا بیرونی قرضہ لیا گیا، 4؍ ارب8؍ سو 24؍ ارب روپے کا مقامی قرضہ بھی لیا گیا ،آئندہ پانچ سال میں ساڑھے 27کھرب کا قرضہ واپس کرنا ہے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے آرمی چیف کی اِن کیمرہ بریفنگ کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرنے والے اراکین سینیٹ کیخلاف کارروائی کیلئے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تمام اراکین پارلیمانی روایات سے بخوبی اگاہ ہیں اور پارلیمان کی کارکردگی کو دیکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس کے لئے قواعد و ضوابط موجود ہیں اور اگر ان کیمرہ اجلاس کی تفصیلات کو عام کیا جائے تو پھر اِن کیمرہ اجلاس کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی جانب سے سینیٹ میں ان کیمرہ اجلاس سے قبل میں نے اجلاس کے قواعد سے تمام اراکین کو اگاہ کرتے ہوئے کہاکہ تھا کوئی بھی رکن ان کیمرہ اجلاس کے پوائنٹ نوٹ نہیں کرے گا اور نہ ہی اجلاس میں ہونے والی گفتگوایوان سے باہر بیان کرے گا۔ بدقسمتی سے گذشتہ روز آرمی چیف کے ان کیمرہ اجلاس کے بعد بعض سینیٹرز نے میڈیا کے سامنے اجلاس کی تفصیلات بیان کی تھیں اور ایک فاضل ممبر نے تو اجلاس میں بیان ہونے والے پوائنٹس کی جس طرح میڈیا پر تشریح کی ہے وہ کسی طور بھی درست نہیں تھی۔ اگر ہم ان کیمرہ اجلاس کی رازداری نہیں رکھ سکتے ہیں تو کل کوئی بھی ادارہ اہم قومی معاملات میں ہم پر اعتماد نہیں کرے گا۔کل جو کچھ بھی ہوا ہے وہ ایوان بالا کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے اور میں نے یہ معاملہ سینیٹ کی بزنس ایڈو ائز ری کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکین موجود ہونگے اور اجلاس میں آئندہ کیلئے قواعد و ضوابط بنائیں جائیں گے۔ اس سلسلے میں میڈیا پر کسی قسم کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے تمام تر ذمہ داری اراکین سینیٹ کی تھی اور انہوں نے ہی خلاف ورزی کی ہے۔ اس موقع پر سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ آرمی چیف کے ان کیمرہ سیشن کے بعدڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کی تھی اسی طرح قائد حزب اختلاف اور قائد ایوان نے بھی اس پر بات کی تھی جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ قائد حزب اختلاف اور قائد ایوان نے اجلاس کے اندر بیان ہونے والے پوائنٹس میڈیا کے سامنے نہیں رکھے تھے صرف اس معاملے پر عام بات کی تھی۔ سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہاکہ یہ اصولی بات ہے حساس معاملات پر ان کیمرہ اجلاس کی تفصیلات میڈیا کو فراہم نہیں کی جاسکتیں۔جن اراکین نے ایوان کے باہر ان کیمرہ اجلاس کی تفصیلات بیان کی تھی ان کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ان کی شکلیں میڈیا پر اجائیں۔ اس اقدام سے ایوان کی بے توقیری ہوئی ہے اور یہ اس تمام اداروں کو ایک پیغام جائے گا اور وہ حساس معاملات کے بارے میں ایوان کو کھل کر نہیں بتائیں گے۔ سینیٹر سعود مجید نے کہاکہ کل جو کچھ بھی میڈیا میں آیا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا تاہم اس سلسلے میں میڈیا کو بھی پابند بنایا جائے۔ ان کیمرہ اجلاس کے خاتمے کے بعد ہمیں ہال سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا اور میڈیا کے نمائندے ہم سے اجلاس کی تفصیلات پوچھ رہے تھے جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ رپورٹرز کا یہ کام ہے کہ وہ خبر بنائیں یہ ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ ہم انہیں تفصیلات فراہم نہ کریں اور میڈیا جو کچھ بھی شائع کرے وہ صرف اپنے ذرائع کے حوالے سے دے۔ ہم میڈیا کیلئے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں بنائیں گے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ بعض سینیٹرز نے بے احتیاطی کی ہے اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے سینیٹر تاج حیدر نے کہاکہ اس سلسلے میں بنیادی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔دریں اثناءوزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمدنے تحریک پیش کی کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ آرڈیننس 1968ء میں مزید ترمیم کا بل پاکستان ٹوبیکو بورڈ (ترمیمی) بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔اپرنٹس شپ بل 2017 کے حوالے سے انہوں نے تحریک پیش کی کہ ہنر کے بعد کم از کم معیارات کے حصول کے لئے اسٹیبلشمنٹ میں اپرنٹس شپ پروگراموں کے فروغ، ترقی اور منضبط کرنے کا بل اپرنٹس شپ بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ دس فیصد سے زائد کمی کے تباہ کن اثرات سے تباہ شدہ معیشت پر مزید بوجھ آئے گا،سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التوا کو ایوان بالا میں بحث کے لیے منظور کرلیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا کہ تحریک پر بحث کے لیے تاریخ کا تعین کیا جائیگا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close