پاکستان

اسرائیل، بھارت اور امریکا پرمشتمل نیا دہشتگرد گٹھ جوڑ ابھر کر سامنے آرہا ہے

شیعت نیوز: صدر مملکت ممنو ن حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بنیادی وجہ بیرونی طاقتوں کی دوسرے ممالک میں مداخلت ہے، تنازع کشمیر سےخطے کا امن دائو پر ہے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اسے کسی دوسرے ملک سے ہدایت لینے کی ضرورت نہیں، امریکا پے در پے غلطیاں کر رہا ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر گرانا چاہتا ہے، اسرائیل، بھارت اور امریکا پرمشتمل نیا گٹھ جوڑ ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے پاکستان کواب تک 120ارب ڈالرکامالی نقصان ہوچکا ہے، نان اسٹیٹ ایکٹر نے سرحدوں کے تحفظ اور ملکوں کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا۔ ایرانی اسپیکر علی لاریجانی  نے کہا ہے کہ امریکا کی نئی مہم جوئی روکنے کی ضرورت ہے۔روسی اسپیکر نے کہا ہے کہ دہشت گردی پوری دنیا اور مذاہب کیلئے خطرہ ہے ۔ رہنمائوں  نے ان خیالات کا اظہار وفاقی دارالحکومت میں ’’ دہشت گردی اور بین العلاقائی رابطے‘‘ کے عنوان سے پہلی چھ ملکی اسپیکرزکانفرنس کےشرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چین ، ترکی، رشین فیڈریشن اور افغانستا ن کے اسپیکرز نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت ممنو ن حسین نے کہا ہے کہ نائن الیون کے افسوسناک واقعہ کے بعد پاکستان کو جنگ کی دلدل میں گھسیٹا گیا جس سے پا کستا ن برح طرح متاثر ہوا، افغانستان کے استحکام میں پا کستا ن کا استحکام پوشیدہ ہے اس لیے پاکستان افغا نستا ن میں امن و استحکام کی ہر کوشش میں بھر پور تعان کریگا، مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پورے خطے کا امن دائو پر لگا ہوا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ کشمیر ی عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق فوری حل کیا جائے ۔صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے خطے کے کئی ممالک میں مسائل پیدا کیے ۔ پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران میں دہشت گردی کی وجہ سے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں جبکہ ایک سو بیس ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جامع اقدامات کیے ہیں جن میں نیشنل ایکشن پلان اور ضربِ عضب کے تحت پورے ملک میں بلا تفریق کارروائیاں کی گئیں اور دہشت گردوں کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔صدر مملکت نے کہا کہ ان کارروائیوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں امن بحال ہوا۔ انھوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور سیکورٹی فورسز کی مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کے ناسور کامکمل خاتمہ ہو جائیگا۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ خطہ جس اقتصادی استحکام اور خوش حالی کا خواب دیکھ رہا ہے ، اس کی تعبیر علاقائی امن و استحکام، پُرامن بقائے باہمی اور ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کے پاکیزہ جذبے سے مشروط ہے ۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے عسکریت پسندی کے سد ِباب کیلئے سرحدی سلامتی کو مزید بہتر اور مو ثر بنانے کیلئے ہمسایہ ممالک کو بھرپور تعاون کی پیش کش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ سرحدی نگرانی کا فعال نظام اس سلسلے میں مو ثر ثابت ہو سکتا ہے۔ انھوں نے توقع کا اظہار کیا کہ اقتصا د ی راہداری کی طرح آپٹک ہائی وے مواصلاتی رابطوں کو مزید آسان بنا دے گی اور اس خطے کے صحرائو ں، پہاڑوں اور سمندروں سے گزرنے والی تیل اور گیس کی پائپ لائنیں صنعت و حرفت اور ٹیکنالوجی کا ایک نیا جہاں تخلیق کریں گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کی انتھک محنت کے نتیجے میں مختلف براعظموں کو باہم ملانے والی اقتصادی راہداری کی مکمل فعالی بہت جلد ہو جائے گئی جسکے نتیجے میں مغربی چین اور خاص طور پر وسط ایشیا کے ممالک کو بحیرہ عرب کے ذریعے ایشیا کے دیگر حصوں، افریقہ اور یورپی ممالک کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ پاکستان اس عظیم خواب کو تعبیر دینے کیلئے اپنی بہترین کوششوں میں مصروف ہے کیونکہ اس خطے کا مستقبل فعال رابطوں، باہمی تجارت اور تعاون میں پوشیدہ ہے جس میں پاک چین اقتصادی راہداری ایک نئی روح پھونک دیگی۔ اس جذبے کے تحت ہم خطے کے تمام ممالک کو اقتصادی راہداری میں شرکت کی پر خلوص دعوت دیتے ہیں۔ صدر مملکت نے کانفرنس میں شریک چین، ترکی، رشین فیڈریشن ، ایران اور افغانستان کے اسپیکر ز کا شکریہ ادا کیا اور توقع کا اظہا ر کیا کہ یہ کانفرنس خطے کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور علاقائی ترقی وخوشحالی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ضمن میں بے انتہا مفید ثابت ہو گی ۔ کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنا یا جا رہا ہے، وقت آگیا کہ ایشیا اپنی قسمت کے فیصلے خود کرے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی، امریکا نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کیا تاہم پاکستان اپنی سالمیت پر ہرگز سمجھوتا نہیں کریگا، دہشت گردی مقامی معاملہ نہیں بلکہ اسکا سبب بیرونی مداخلت ہے، حکومت پاکستان کے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، دہشت گردوں سے نمٹنے میں پاک افواج کے تجربے سے ہمسایہ ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کشمیر کے مسئلے نے برصغیر کا امن دائوپر لگا رکھا ہے، کشمیر کے عوام 7 دہائیوں سے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ دنیا نے بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ قبول نہیں کیا اور جنرل اسمبلی میں امریکا کو اس حوالے سے جواب مل گیا ہے۔چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے امریکا پر واضح کردیا کہ پاکستان خود مختار ریاست ہے کوئی ہمیں نوٹس نہ دے۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے پرزوراور دوٹوک خطاب میں کہا کہ امریکا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان خودمختار ریاست ہے، دوسروں سے نوٹس لینے کی عادت نہیں رہی چاہے وہ امریکا سے ہی کیوں نہ آئیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا امریکا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستانی افواج پرنہ ڈالے۔امریکا کے نائب صدرپرواضح کیا کہ پا کستا ن کو کسی کے اشارے پر چلنے کی عادت نہیں رہی۔ امریکا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے امریکی سفار تخا نہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ سب سے سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے بھرپور منہ توڑ جواب مل گیا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے امریکی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے ہتھیاروں کی فروخت اور قدرتی وسائل پر قبضے کی خاطرتنازعات کو ہوا دے رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج مشرق وسطیٰ اور خطے میں دہشت گردی ،فرقہ وار یت اور لسانی بنیادوں پر مسائل کا سامنا ہے اور خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ضروری ہوگیا ہے کہ ایشیائی قیادت آپس میں سرجوڑ کر بیٹھے اور اپنے مسائل کا حل خود ہی ڈھونڈا جائے۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ امریکی پالیسی میں جن چیلنجز کا ذکر ہے اس کے مطابق روس ،چین ،ایران ،شمالی کوریا اور جہادی گروپس سب سے بڑے چیلنجز شمار کیے گئے ہیں اور یہ کہ امریکا بھارت کو خطے کا تھانیدار بنا رہا ہے جو کہ کسی طرح سے بھی قابل قبول نہیں ہے، پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور ہمیں کسی سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں۔میاں رضا ربانی نے امریکی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین اور روس کو امریکی سلامتی وخوشحالی کیلئے خطرہ قرار دیا جارہا ہے اور افغانستان میں ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی جارہی ہے تاہم پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگاپاکستان نے دہشت گردی کیخلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے شرکاء پر زور دیا کہ ہمیں صورتحال کا یرغمال بننے کی بجائے امن کے قیام اور دیرپا ترقی کیلئے ایک جامع حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ اقدام کو آگے لے کر بڑھنا ہوگا تاکہ ایشیاء کے عوام کی سماجی واقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ بعض عالمی طاقتوں کیلئے خطرہ بناہوا ہے لیکن ہمیں دانشمندی کیساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے خطے میں نئے معاشی دور کا آغاز ہوگا، خطے کے تمام ملکوں کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔ اس منصوبے سے افریقہ اور یورپی مارکیٹوں تک بھی رسائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ون بیلٹ ون روڈ کو آگے لے کر بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close