مشرق وسطی

بحرین کے مظلوم و نہتے مظاہرین پر آل خلیفہ فورسز کے حملے

آل خلیفہ کی سکیورٹی فورسز نےبحرین کے علاقوں ابوصبیع اورالشاوخوره میں پر امن احتجاجی مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغی اور چھرے والی گنوں سے ان پر فائرنگ کی۔ آل خلیفہ کے آلہ کاروں نے اسی طرح سترہ کے علاقے میں بھی مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا سترہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین نے آل خلیفہ کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر شہداء کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔

واظح رہے کہ بحرین کی آمریت مخالف قوتوں نے چودہ فروری کو صبح اور شام کے وقت ملک گیر مظاہروں کی اپیل کی تھی جس کا عوام نے بھر پور خیر مقدم کیا۔ قابل ذکر ہے کہ چودہ فروری بحرین میں عوامی انقلابی تحریک کی ساتویں سالگرہ تھی۔

اس موقع پر آل خلیفہ حکومت نے بحرینی عوام کے خلاف پرتشدد کارروائیاں انجام دیتے ہوئے اس ملک میں ایک سو پیتالیس بار انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ بحرین کی شاہی حکومت سعودی فوج کے تعاون سے عوامی انقلابی تحریک کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم سات برس گزرنے کے باوجود بحرینی عوام استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حکومت بحرین نے انقلابی تحریک کو کچلنے کے لیے اس تحریک کی حمایت کرنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو گرفتار اور بے بنیاد الزامات کے تحت م‍قدمہ چلا کر انھیں جیلوں میں بند کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بحرین کی شاہی حکومت پچھلے چھے سال کے دوران گیارہ ہزار بحرینیوں کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر چکی ہے اور ان میں سے متعدد کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ مغربی ایشیا کے اس چھوٹے سے ملک بحرین میں آبادی کے لحاظ سے سیاسی قیدیوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایمنسٹکی انٹرنیشنل نے جمعے کے روز بحرین کے بادشاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحرین کی تمام سرگرم شخصیات منجملہ نبیل رجب کو فوری طور پر رہا کرے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے پیغام میں شاہ بحرین حمد بن عیسی آل خلیفہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی سرگرم شخصیات اور تمام بے گناہ بحرینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں بند اور انھیں فوری طور پر رہا کریں۔ قابل ذکر ہے کہ بحرین میں چودہ فروری دو ہزار گیارہ سے آمریت کے خلاف تحریک جاری ہے اور اس ملک کے عوام شاہی حکومت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close