پاکستان

کشمیر کاز کو نقصاں پہنچانے کے لئے ’را‘ نے داعش کو سرگرم کردیا

شیعیت نیوز: مقبوضہ کشمیر می حال ہی میں شہید ہونے والے موسی فاضلی کے والد نے بیان جاری کیا ہے کہ انکے بیٹے کا داعش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بیان کشمیر کے اخبارات میں شہید کے جنازے کے تیسرے روز آیا کیونکہ شہید کی میت پر ہجوم میں کسی نے داعش کا پرچم ڈال دیا تھا اور اسکی تصاویر میڈیا پر چلائی گئی تھیں۔ میرے خیال سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں داعش نہیں بلکہ بھارتی ایجنسیوں نے اس تنظیم کی ویڈیوز پھیلا کر نوجوانوں کے جذبات کو ابھار کر ایک شرارت کی کیونکہ ایک تو داعش عالمی طور پر مسترد کردہ گروہ ہے دوسرا یہ کہ تحریک آزادی کو بدنام کرنے کیلئے داعش کی ڈمی لائی گئی تاکہ دنیا کو باور کیا جاسکے کہ کشمیر میں جاری تحریک مقامی نہیں بلکہ عالمی دہشت گردوں کے زیر اثر ہے ۔

کشمیری مزاحمتی قیادت جن میں سیاسی اور عسکری قایدین شامل ہیں نے دو دہائی قبل ہی واضح کیا تھا کہ تحریک آزادی جموں و کشمیر صرف مقامی تحریک ہے جس میں کسی غیر ریاستی اور عالمی مدد شامل نہیں۔ سری نگر سمیت پوری وادی میں پھیلے شہدا کے قبرستان اسکا بڑا بین ثبوت ہیں۔ تیسرا یہ کہ کشمیری پاکستان کے پرچم لہراتے ہیں اور جنازوں پر بھی سبز ہلالی پرچم ہوتا ہے جس سے بھارت کو دنیا بھر میں زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بھارتی فوج ۔حکومت اور اس کی ایجنسیوں کو اس پع سخت تکلیف ہے وہ اب اسے ختم کرنے کیلئے نئی پلاننگ کے طور پر داعش کو پروموٹ کر کے آئی ایس آئی ایس کے پرچم لہروائے جارہے ہیں اور اس کے نظریات عام کیئے جارہے ہیں تاکہ تحریک کو بدنام کیا جاسکےچونکہ عسکری میدان میں بھارت 8لاکھ فوج کشمیر میں جھونک کر بھی ناکام رہا اب نئےحربے استعمال کئے جارہے ہیں۔گزشتہ سال بھی ایک سرگرم کشمیری مجاہد زاکر موسی کو ہند کی ایجنسیوں نے قابو کیا مگر حزب المجاہدین نے فورا اس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا جس کی فراغت کے بعد اس سازش کو پنپنے کا موقع نہ مل سکا۔مسلمانان کشمیر اس بڑی سازش کو سمجھیں کیونکہ نوعمر سنگ بازوں کو بھارتی ایجنسیاں مانیٹر کرکے اول تو ہراساں کرتی ہیں اور پھر اپنے جال میں پھنسا کر کالے جھنڈے تھما دیتی ہیں جب بھی کشمیر میں داعش کے پرچم لہرانے والی تصاویر یا ویڈیوز دیکھی تو یہ جھنڈے لہرانے والوں کے چہرے نقاب سے ڈھکے ہوئے ہی دیکھے جو ثابت کرتا ہے کہ وہ تحریکی نہیں بلکہ تاریکی والے ہیں اگر تحریکی ہوتے تو سرعام سب کشمیریوں کی طرح آتے۔ اس لئے میری تحریک آزادی کے جانباز کشمیری عوام سے گزارش ہےکہ اگر اگر انکو جہاں بھی داعش کے پرچم نظر آئیں اسے اتار کر کسی صاف جگہ پر جلا دیں(مہر نبوت کی خاطر)۔اور نوجوانوں کو یہ بات سمجھائیں کہ کشمیر میں بھارتی سازش کارفرما ہے۔ISIS جس کا مخفف اسلامک سٹیٹ آف عراق و شام ہے اب آپ ہی بتائیں کہ یہ سٹیٹ تو عراق اور شام کی بتا رہے ہیں اور فساد افغانستان۔یمن۔پاکستان اور کشمیر میں کر رہے ہیں۔ یہ داعشی اگر واقعی جہادی ہیں تو یہ بزدل شام سے کیون بھاگے جہاں بشار الاسد اور اس کے اتحادی مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں غوبہ ادلب اور حما کی صورت حال اس ظالم تنظیم کی وجہ سے خراب ہوئی۔داعشی فلسطین اور برما کیوں نہیں جاتے۔ عراق سے کیوں فرار ہوکر افغانستان پہنچے۔جہاں امریکا کے خلاف برسر پیکار مجاہدین کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں ۔ انکا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ دنیا بھر میں جہاں مسلم تحاریک ہونگی ان سے جنگ کرنا اور انہیں اپنے فسادی راستے پر لانا جنکا راستہ خون خرابہ۔ نوجوان لڑکیوں کو جہاد کے نام پر قابو کر کے ان سے زبردستی شادیاں کرنا۔ہیروین کی اسمگلنگ۔اسلحہ کا بیوپار۔اس تنظیم کا اصل سربراہ امریکا ہے جس نے خود کہا کہ ہہ ہم نے داعش بنائی تھی۔

یہ تنظیم فی کس جنگجو کو ستر ہزار پاکستانی روپے کے برابر تنخواہ کہاں سے دیتی ہے؟۔ ڈالرز میں تنخواہ امریکا اپنی فوج کو ہی دیتا ہے اور یہ بھی اسکی فوج کا حصہ ہے۔ انکی اپنی جاری کردہ ویڈیوز میں یہ خود ثابت کرتے ہیں کہ یہ سخت ظالم اور جابر ہی زبردستی بغیر رضا کے شادی کرنے والے وحشی اور جنسی درندے ہیں اور سب سے بڑھ کر گمراہ فرقہ ہے ان سے کشمیریوں کو بچائیں۔اور جہاد کشمیر میں عملی طور پر سرگرم مجاہدین کی مدد و نصرت کریں۔ پاکستان سے اپنا رشتہ مزید مضبوط بنانے کیلئے موساد۔ سی آئی اے اور را کے منصوبے ناکام بنائیں۔ والدین کی زمہ داری ہے کہ بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت کریں جس طرح ہر سفید کوٹ والا ڈاکٹر نہیں ہوسکتا اسی طرح ہر داڑھی پگڑی یا ٹوپی والا بھی عالم یا مسلمان نہیں ہوسکتا۔ فتنہ کے اس دور میں صرف مستند اور اصلاح پسند درد۔معاشرے میں مقام رکھنے والے معروف درد دل رکھنے والے اسکالرز ۔ مدارس اور آئمہ مساجد وخطبا پر اعتماد کریں

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close