پاکستان

داعش کے اثرات پاکستان کی فضاء پر منڈلاتے خطرات ہیں، علماء و مشائخ کانفرنس میں تشویش کا اظہار

شیعیت نیوز: عالم ِاسلام کے تمام مکاتب ِفکر کے جیّد علماء کرام و مشائخ عظام نے کہا ہے کہ اُمت مسلمہ کی سرخروئی و سرفرازی کا راز اتحاد بین المسلمین میں مضمر ہے اور اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ باہم متحد ہو کر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جسکے لئے علماء کرام و مشائخ عظام کو وطن عزیز پاکستان میں اُمت کی بہتر رہنمائی کیلئے خود میدان میں اترنا ہوگا، جبکہ وطن عزیز کی سرحدوں پر داعش کے مرتب ہونے والے اثرات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے علماء کرام و مشائخ عظام نے پاک فوج کے اقدامات کی بھی تائید کی، اس امر کا متفقہ اعلان اسلام آباد کے معروف علمی، تحقیقی ادارے جامعۃ الکوثر میں منعقدہ ’’بین الاقوامی علماء و مشائخ اسلام کانفرنس” میں کیا گیا، جس میں برادر اسلامی ملک عراق سے حرم امام حسین ؑ سے آئے ہوئے نمائندہ وفد کے سربراہان اور مہمانان خصوصی السید محمد علی الحلو اور السید جلو خان کے علاوہ، علامہ سید ساجد علی نقوی، معروف اسکالر اور جامعۃ الکوثر کے سربراہ علامہ شیخ محسن علی نجفی، پیر ضیاء اللہ شاہ بخاری، جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر عبدالغفور حیدری، متحدہ مجلس عمل کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی مرکزی سیکرٹری جنرل اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر علامہ عارف حسین واحدی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

مقررین نے جامعۃ الکوثر کی علماء و مشائخ اسلام کانفرنس کو اتحاد بین المسلمین کی بقاء اور عالم اسلام کو درپیش چلینجز سے نبرد آزماء ہونے کی بہترین کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کاوشین مسلسل انجام پذیر ہوئیں تو عالم اسلام باہم متحد ہو کر اسلام و انسانیت دشمن قوتوں کا مقابلہ اسلامی جذبے سے سرشار ہو کر کرنے میں کامیاب ہوسکے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ دین اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، مگر بدقسمتی سے دشمن فرقہ واریت کا بیچ بو کر اس آفاقی دین کو بدنام کرنے کی مکروہ کوشش میں مصروف عمل ہے، جو کبھی کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ مقررین نے پاک سرحدوں پر داعش کے اثرات کو پاکستان کے مسلمانوں کے لئے منڈلاتے خطرات قرار دیا اور اس ضمن میں سرحدوں کے محافظ پاک فوج کے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور برادر ملک عراق کو داعش کے خلاف کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔ مقررین نے آزادی اظہار رائے کے نام پر مغرب میں انبیاء علیہم السلام اور آسمانی صحائف کی مسلسل توہین کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اس ضمن میں واضح اقدامات کا بھی مطالبہ کیا، جبکہ ملک میں نئے قوانین بنانے سے پہلے اسلامی تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی اپیل کی۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close