پاکستان

گرفتار دہشتگردوں کا تعلق کالعدم انصار الشریعہ سے ہونے کا انکشاف

شیعیت نیوز:سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار چار دہشتگردوں میں سے دو عبدالرئوف عرف ابو جندل عرف ابو رضوان اور کامران عرف حذیفہ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےلیے درد سربنے رہنے والی کالعدم انصار الشریعہ کے سربراہ شہریار عرف ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کے ساتھی ہیں، انھوں نے 2سال فنڈز اکھٹا کر کے ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کو دیئے جبکہ مفرور اور انتہائی مطلوب دہشتگرد سروش صدیقی بھی ان سے رابطے میں تھا اور دہشتگردوں نے اسلحہ بھی فراہم کیا ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار مبینہ دہشتگردوں سے متعلق اہم انکشافات ہوئے ہیں، یہ انکشافات عبدالروف عرف ابو جندل عرف ابو رضوان اور کامران عرف حزیفہ سے متعلق ہیں، سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دونوں دہشتگرد کالعدم انصار الشریعہ کے مارے گئے سربراہ کے ساتھی ہیں، دونوں مبینہ دہشتگرد شہریار عرف ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کے ساتھ رابطے میں رہے، ابو جندل عرف ابو رضوان مفرور دہشتگرد سروش صدیقی سے بھی رابطے میں تھا، حکام کے مطابق ابو جندل کا ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی اور سروش صدیقی سے رابطہ سال 2012ء میں ہوا، یہ ملاقات گارڈن میں ہوئی، پھر 2013میں ابو جندل کی ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی سے اس کے گھر پر مفتی طیب کے ہمراہ ملاقات ہوئی، 2013ء میں تینوں دہشتگرد کراچی سے کوئٹہ اور پھر افغانستان گئے، ابو جندل کو ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی 2013ء میں پشین اور پھر افغانستان میں شوراوک لے کر گیا، کالعدم انصار الشریعہ کا مفروراور انتہائی مطلوب دہشتگرد سروش صدیقی بھی ابو جندل کے ہمراہ تھا، ابو جندل، ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی اور سروش صدیقی ایک ساتھ افغانستان میں رہے، تینوں نے شوراوک افغانستان میں 40؍ روز کی دہشتگردی کی ٹریننگ حاصل کی، افغانستان میں قیام کے بعد تینوں دہشتگرد کوئٹہ اور پھر کراچی واپس آئے، 2013ء سے 2014ء کے دوران ابو جندل نے فنڈز اکھٹا کر کے ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کو دیئے، 2013ء اور 2014ء میں ابو جندل نے ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی اور سروش صدیقی کو اسلحہ بھی دیا۔ کامران عرف حذیفہ کی ملاقات ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی سے 2014ء میں ہوئی، کامران عرف حذیفہ نے کلاشنکوف سمیت دیگر اسلحہ چلانے کی کئی ماہ کی ٹریننگ لے رکھی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close