پاکستان

گلگت بلتستان کے عوام آئینی حقوق مانگ رہے ہیں۔ آغا علی رضوی

شیعیت نیوز:گلگت بلتستان ایک عجوبہ ہے۔ ہم ایک عجوبے کی بات کرنے کیلئے جمع ہیں۔ گلگت بلتستان کے غریب ترین افراد بھی ٹیکس دینے کیلئے تیار ہیں لیکن ہمیں گارنٹی چاہئے کہ وہ ٹیکس ہمارے عوام پر خرچ ہو۔ ہمارے نام پر بجٹ کونسل کے چند بے روزگاروں اور ایسی اسمبلی پر خرچ ہوتا ہے جو ڈیڑھ سو سے زیادہ قرارداد پاس کرچکا ہے لیکن ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ یہ شرم کا مقام ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سکریٹری جنرل اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما آغا علی رضوی نے گلگت بلتستان اوئیرنس فورم کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونیوالے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ ہم اپنے خطے کو آئینی پاکستانی حصہ چاہتے ہیں اور حق مانگ رہے ہیں۔ مگر ہمیں محروم رکھنے والوں کو خبردار کرتا ہوں کہ اس وقت سے ڈرو جب ہم مانگنا چھوڑ دیں گے۔ گلگت بلتستان میں امن کا قیام کسی حکومت کا کوئی کارنامہ نہیں۔ عوام بہتر جانتے ہیں کہ امن و امان کا قیام عوامی ایکشن کمیٹی کی مرہون منت ہے۔ ورنہ وزیر اعلیٰ کی باتیں سکردو میں پریس کانفرنس واضح ہوچکا ہے کہ وہ کس طرح سے تعصب پھیلا کر امن و امان کو مخدوش کرنا چاہتے ہیں۔ سی پیک میں گلگت بلتستان کو ایک روپیہ نہیں دیا۔ لیکن عوام کے منتخب نمائندوں نے ایک لفظ نہیں بولا۔ انکی نا اہلی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے۔ ہم نے ٹیکس کے خلاف تحریک چلا کر، گندم سبسڈی کی تحریک چلا کر ثابت کردیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کو ایک پیج پر لے آئے۔ ہم نے ہر تعصب کو دفن کردیا جو یہاں کے سیاسی اور حکومتی جماعتوں نے فروغ دیا تھا۔ ہم نے ان سب کی سازشوں کو گندم سبسڈی اور ٹیکس مخالف تحریکوں کے ذریعے نابود کردیا۔ آغا علی رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب عوام سیاسی حربوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ہمارے جوان سمجھ چکے ہیں کہ ستر سال میں لولی پاپ کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ہمیں کوئی حق نہیں دیا۔ بلکہ یمارے حقوق کو سلب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ہمارے جوان اور طالبعلم اب برداشت کرنے پر ہرگز تیار نہیں۔ آغا علی رضوی نے زور دیکر کہا کہ اب ہم اپنے نوجوان نسل کو مزید محرومیوں میں نہیں جانے دیں گے۔ ہمارے جوان باشعور اور تعلیم یافتہ ہیں۔ اپنا حق مانگ نہیں دیتے تو چھیننے پر مجبور ہوں گے۔ ہمیں مجبور نہ کریں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close