سعودی عرب

کیا بن سلمان محل حملہ میں زخمی ہے یا مارا گیا

21 اپریل کی شام قطر اور سعودی عرب کے بعض سوشل میڈیا ورکرز نے دارالحکومت ریاض کے قریب علاقے "الخزامی” میں واقع سعودی شاہی محل کے قریب فائرنگ کے واقعات کی خبر دی۔ رپورٹس کے مطابق یہ فائرنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی جس کی متعلقہ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہیں۔ اس وقت بعض ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کو بعض سعودی شہزادوں کی جانب سے بغاوت کے اقدام اور شہزادہ محمد بن سلمان کو قتل کرنے کی کوشش کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اسی طرح بعض دیگر ذرائع نے اسے یمنی جنگجووں کی جانب سے ایک پیچیدہ سکیورٹی آپریشن قرار دیا تھا جس کا مقصد یمنی عوام کے خلاف انجام پانے والے سعودی حکمرانوں کے مجرمانہ اقدامات کا بدلہ لینا تھا۔ سعودی ذرائع ابلاغ خاص طور پر العربیہ اور الحدث نیوز چینلز نے ریاض پولیس کی جانب سے سرکاری بیانیہ جاری ہونے تک اس واقعے کے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ ریاض پولیس نے شاہی محل کے قریب فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی وجہ ایک کھلونا ڈرون غلطی سے شاہی محل کی حدود میں داخل ہونا بیان کی تھی۔

دوسری طرف سوشل میڈیا صارفین اور آزاد خبری ذرائع کچھ مختلف قسم کے امکانات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس واقعے سے متعلق خبریں اگلے آدھے گھنٹے میں ہی ٹویٹر ہیش ٹیگ "الخزامی میں فائرنگ” عمدہ ٹرینڈ میں تبدیل ہو گیا۔ سعودی عرب کے مشہور حکومت مخالف ٹویٹر صارف "مجتہد” جو آل سعود خاندان کے اندرونی رازوں سے پردہ اٹھانے کے بارے میں معروف ہیں نے ریاض پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے باخبر ذرائع کے بقول لکھا: "اس حملے کا اصل نشانہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے۔ اس جھڑپ میں دونوں جانب سے سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حملہ آور بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہیں ڈرون کی مدد بھی حاصل تھی۔ یہ فائرنگ ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔” سعودی عرب میں اعلی سطحی عہدیداروں خاص طور پر سعودی ولیعہد پر قاتلانہ حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ فائرنگ کے اس واقعے سے چھ ماہ قبل سعودی وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ ایک مشلح شخص نے کلاشنکوف اور چند دستی بموں کے ذریعے جدہ میں واقع سعودی شاہی محل کے گارڈز کو حملے کا نشانہ بنایا۔

بہرحال، ریاض میں واقع شاہی محل پر دوسرے حملے کے دوران ہونے والی فائرنگ کی اصل وجہ کھلونا ڈرون کا غلطی سے اس کی حدود میں داخل ہونا ہو یا مسلح افراد کی سکیورٹی گارڈز سے جھڑپ ہو، ایک انتہائی مشکوک امر موجود ہے جس سے اس کاروائی کے بغاوت ہونے کے امکان کو تقویت ملتی ہے۔ یہ مشکوک امر اس حملے کے بعد سے آج تک سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کا میڈیا پر ظاہر نہ ہونا ہے۔ جبکہ معمول کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان سے منسوب خبر ہر روز سعودی اخبارات پر شائع ہوتی تھی چاہے وہ ان کے بیان کی صورت میں ہو یا ان کی کسی سے ملاقات کی صورت میں یا ان کے کسی اقدام کی صورت میں ہو۔ دوسری طرف بعض ذرائع ابلاغ نے فائرنگ کے اس واقعے میں شہزادہ محمد بن سلمان کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی تھی اور کہا گیا تھا کہ انہیں کم از کم دو گولیاں لگی تھیں۔ فائرنگ کے اس واقعے سے آج تک محمد بن سلمان کا میڈیا پر ظاہر نہ ہونے سے صورتحال انتہائی مشکوک ہو چکی ہے اور ان کی ممکنہ ہلاکت کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جس کے بارے میں سعودی ذرائع ابلاغ نے ان کی شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی خبر بھی لگائی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ملاقات کی کوئی تصویر منظرعام پر نہیں آئی۔ جبکہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی ذرائع ابلاغ پر شائع کی گئی ہیں۔ اس ملاقات سے کچھ عرصہ پہلے امریکی سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی سعودی عرب آئے تھے جن سے محمد بن سلمان کی ملاقات کی تصاویر میڈیا پر شائع ہوئی تھیں۔ ریاض کے شاہی محل میں فائرنگ کے واقعے کو بیس دن گزر چکے ہیں لیکن اب تک سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پراسرار غیر حاضری کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے وہ دوبارہ قاتلانہ حملے سے بچنے کیلئے اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر منظرعام پر آنے سے گریز کر رہے ہوں یا فائرنگ کے اس واقعے میں انہیں کوئی ایسا نقصان پہنچا ہے جس کی بنا پر وہ میڈیا پر ظاہر ہونے سے قاصر ہیں۔ اس بارے میں بہت زیادہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

سعودی ذرائع ابلاغ نے فائرنگ کے اس واقعے کے بعد کئی مواقع پر شہزادہ محمد بن سلمان کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز شائع کیں جن میں وہ مختلف مقامی اور بین الاقوامی شخصیات سے ملاقات کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ صحت مند ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن سعودی ذرائع ابلاغ کا یہ اقدام کچھ دن کی تاخیر سے انجام پایا جو مزید شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے جبکہ یہ امکان بھی پایا جاتا ہے کہ ان کی شائع کردہ تصاویر اور ویڈیوز فائرنگ کے واقعے سے پہلے انجام پانے والی ملاقاتوں سے متعلق ہوں۔ وہ حقیقت جس کا انکار ممکن نہیں اور اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں یہ ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد آج تک سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان منظرعام پر نہیں آئے اور جب تک وہ کسی پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوتے یہ شکوک و شبہات جاری رہیں گے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close