ایران

یورپ نے کوتاہی کی تو پرامن ایٹمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں گے آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران کے اعلی حکام اور عہدیداروں سے ملاقات میں اپنے خطاب کے دوران فرمایا کہ اگر ایرانی حکام اپنے فرائض پر صحیح طریقے سے عمل کریں گے تو امریکا کو اپنے حالیہ ایران مخالف اقدامات میں یقینی طور پر شکست کا منہ دیکھنا ہو گا اور اس میں کسی کو کوئی شک وشبہہ بھی نہیں ہونا چاہئے-

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ موجودہ امریکی صدر کا انجام بھی سابق صدور ریگن اور جارج بوش سے بہتر نہیں ہو گا اور انہی کی طرح وہ بھی تاریخ میں گم ہو جائیں گے-

ایٹمی معاہدے سے متعلق امریکہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایٹمی مذاکرات کے آغاز سے اب تک امریکا کے رویّوں اور اقدامات سے یہ اہم تجربہ حاصل ہوا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، امریکا کے ساتھ کوئی بھی معاملہ نہیں کر سکتا کیونکہ واشنگٹن اپنے کسی بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا-

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کو اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر بائیس اکتیس کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یورپی ممالک کو چاہئے کہ سلامتی کونسل میں امریکہ کے خلاف قرارداد پیش کریں اور اس امریکی اقدام پر احتجاج کریں۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تین یورپی ممالک پر زور دیا کہ انہیں چاہئے کہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے سے متعلق ایران کو اعتماد میں لیں اور اس حوالے سے ہمیں ضمانت دیں کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں ایران کی موجودگی پر بات نہیں ہو گی۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یورپی ممالک کی جانب سے جوہری معاہدے کو جاری رکھنے کے لئے ضمانت فراہم کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر امریکی حکام تیل کی فروخت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں تو یورپی ممالک کو چاہئے کہ وہ تیل خریدنے کی ضمانت فراہم کریں۔

اس کے علاوہ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے ساتھ یورپی ملکوں کے بینکاری کے شعبے میں تعاون پر بھی کھل کر بات کی۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران کا تین یورپی ممالک سے کوئی جھگڑا نہیں ہے البتہ یورپی ممالک کے ماضی پر نظر ڈالنے سے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اسی لئے انھیں ضمانت فراہم کرنی چاہئے۔

آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر یورپی ممالک نے ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا اور اس پر عمل کرنے میں تاخیر کی تو ایران بھی اپنی معطل شدہ پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کر دے گا۔

آپ نے ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے حکام پر زور دیا کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں کو شروع کرنے کیلئے تیار رہیں. تاہم ابھی ہم یورینیئم کی 20 فیصد افزودگی کو شروع نہیں کریں گے البتہ اگر ہمیں جوہری معاہدے سے کوئی فائدہ نہ ہوا توجوہری معاہدے کی وجہ سے بند ہونے والی جوہری سرگرمیوں کو بحال کیا جائے گا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close