مقالہ جات

معرکہ الحدیدہ ۔صرف شور سے جنگیں نہیں جیتی جاتیں ۔

یوں لگ رہا ہے کہ اب یمن پر بین الاقوامی حملہ شروع ہوچکا ہے ،جو ابھی تک لوجسٹکل اور مشاورت تک شامل تھے اب براہ راست اس جنگ میں کود چکے ہیں ۔۔۔اگلے مضمون میں تفصیل سے اس پہلو پر بات ہوگی ۔۔
یمن کےساحلی شہر الحُدیدہ میں گھمسان کی جنگ جاری ہے ،سعودی اور اماراتی اتحادیوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ساحلی شہر پر عید الفطر کے دن قابض ہوجاینگے ،لیکن لگتا ہے کہ انہیں یہاں شدید قسم کی مزاحمت کا سامنا ہے کہ جس کی انہیں توقع نہیں تھی ۔
اس جنگ میں فرانس ،برطانیہ کے فوجی اور امریکی لوجسٹکل سپورٹ مکمل طور پرحاصل جبکہ بلیک واٹر جیسے ایک سابق امریکی عسکری ماہرین بھی گرونڈ میں انہیں مدد فراہم کررہے ہیں ۔
ایتھوپیا ،سوڈان اور مصر سمیت تقریبا ایک درجن کے قریب ممالک کی کرایے کی افواج اور عسکری مشاورین اس گولڈن آپریشن میں شامل ہیں ،میڈیا کا ایک حصہ کہہ رہا ہے کہ اس حملے میں پاکستان کے سابق آرمی چیف اور موجودہ ہاوس آف سعود کے سیکوریٹی گارڈ انچارچ راحیل شریف بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ گولڈن آپریشن کی اصطلاح سعودی اماراتی اتحاد نے اپنے لئے چنا ہے ۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس ساحلی شہر میں گذشتہ روز پانچ سو سے زائد فضائی حملے کئے گئے۔
تاز ہ ترین زمینی صورتحال یہ ہے کہ یمن کی افواج اور عوامی رضاکار انصاراللہ نے ایک غیر ملکی جنگی کشتی کو الحدیدہ کے ساحل میں گرفتار کیا ہے جبکہ جن پوائنٹس پر سعودی اماراتی اتحادی افواج قدرے پیش رفت کرچکی تھیں اس سے انہیں واپس ہونا پڑرہا ہے ۔
عسکری ماہرین کے مطابق شائد وہ پوائنٹس ایک قسم کے ٹریپ تھے اور انہیں اس کا احساس ان پوائنٹس پر پہنچنے کے بعد ہوا ہے ۔۔
سعودی اماراتی میڈیا ایڑھی چوٹی کا زور لگاکر یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ان کے عسکری کمانڈروں کی دعوئے سچ ثابت ہوئے اور عید سے پہلے ہی وہ الحدیدہ میں کامیاب پوزیشن لے چکے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیشنل ائرپورٹ تک پر وہ قبضہ کرنے میں انہیں کامیابی نہیں ملی ہے ،پروپگنڈے کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ائرپورٹ پر قبضے کا اعلان کردیا اور ا سکے چند منٹوں بعد ہی انصار اللہ اور فوج کے ترجمانوں نے انئرپورٹ سے ہی اپنے انٹریو نشر کردئے اور اس کی حقیقت واضح کردی ۔
میدان جنگ میں محاذوں پر قبضہ کرنا اور قبضہ چھڑانا جنگ کا حصہ ہواکرتا ہے اسی طرح نفسیاتی جنگ کے پینترے بھی جنگ کا اہم حصہ شمار ہوتے ہیں لیکن یہاں صورتحال ایسی ہے کہ میدان جنگ سے انتہائی مبالغہ آمیز خبریں سعودی و اماراتی میڈیا کو دی جاتی ہیں جو بعد میں خود ان کے اپنے لئے نفسیاتی دباو اور خفت کا باعث بنتی ہیں ۔
یمن کی جنگ میں اب واضح ہوچکا ہے کہ اس جانب یمن اس کی فوج اور عوام کھڑے ہیں تو دوسری جانب تقریبا علاقائی و عالمی بڑی بڑی طاقتیں جیسے فرانس ،برطانیہ امریکہ ،سعودیہ امارات بحرین مصر سوڈان ایتھوپیا سمیت دوسری کرایے کی فوج کھڑ ی ہے ۔
عرب دنیا میں یہ مشہور ہے کہ یمن پر حملہ کرنے والے کبھی زندہ نہیں لوٹے ،کیونکہ یمن ایک دلدل ہے جہاں انسان جتنا اچھل کود کرنے کی کوشش کرتا ہے اس قدر ڈوبتا جاتا ہے ۔
الحدیدہ پر اس قدر وسیع اور بین الاقوامی فوج تشکیل دے کر حملے کے پچھے اصل محرکات کیا ہیں اس پر آنے والے دنوں میں تفصیل سے گفتگو ہوگی ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close