مقالہ جات

یمنی باغی نہیں ہیں

یمن میں سعودی عرب کی جانب سے تین سال سے جارحیت جاری ہے۔ یمن میں حقیقی صورتحال سے پاکستانی میڈیا غافل رکھتا ہے، اگر کوئی خبر جاری بھی کی جاتی ہے تو اس میں یمنیوں کو باغی کہا جاتا ہے۔ پاکستانی الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا اپنا موقف اختیار کرنے کی بجائے آل سعود کی زبان اور لہجہ کو پاکستانی عوام پر مسلط کئے ہوئے ہے۔ اگر آل سعود اپنے پسندیدہ صدر کی یمن میں معزولی یا خواہشات پر یمنیوں سے ناراض ہے تو کیا پاکستان کا میڈیا آل سعود کا ترجمان میڈیا بن جائے گا؟ آج سے کئی سو سال قبل بھی جب کربلاء میں جنگ ہوئی تو یزید کے ذرائع ابلاغ نے عراق کے شہر کربلا میں شہید ہونے والے نواسہ رسول کے قیدی خانوادہ کو باغی کہا اور ہر جگہ یہ خبر پھیلائی گئی کہ باغیوں کا قافلہ شام میں داخل ہو رہا ہے، اس جھوٹی خبر میں سات سو سے زائد صحافی یا کاتب استعمال ہوئے۔ وقت ضرور بدل گیا ہے مگر سامراجی اور آمرانہ قوتوں کا مظلوموں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا انداز نہیں بدلا۔ موجودہ صورتحال کی بات کی جائے تو یمن پر امریکی، برطانوی اور اسرائیلی حمایت سے تین سال سے آل سعود کی جارحیت جاری ہے۔ اس جارحیت سے 37 ہزار افراد شہید، زخمی اور معذور ہوئے ہیں۔

گذشتہ ایک ہفتہ سے یمن کے علاقے الحدیدہ میں جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ الحدیدہ وہ اہم بندرگاہ ہے، جہان سے یمنی عوام کے لئے غذائی اشیاء کی ترسیل کی جاتی ہے، الحدیدہ پر حملوں سے ادویات سمیت امدادی اشیاء کی ترسیل بند ہوگئی ہے، جس کے باعث علاقے میں مقیم افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں، آل سعود اور اس کی اتحادی جارح قوتیں یہ گمان کر رہی تھیں کہ الحدیدہ کی پرامن عوام ان کا راستہ نہیں روکے گی اور وہ آسانی سے علاقہ پر قبضہ کرسکتی ہیں، لیکن یمنی عوام نے اعلان کیا ہے کہ الحدیدہ میں داخل ہونے والوں کو ہرگز واپس جانے کا راستہ نہیں ملے گا، علماء یمن نے بھی وطن کے دفاع کے لئے جہاد کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان پرامید ہیں کہ یمن میں جلد ظالم سرنگوں ہوگا اور مظلومین کو استقامت کی بدولت سنہری فتح حاصل ہوگی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close