یمن

یورپی ممالک سعودی اتحاد کو اسحلہ بیچنا بند کریں

یورپی یونین کے وفد کی سربراہ ماریہ ایٹونیا کالفو سے بات چیت کرتے ہوئے یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ یورپی یونین ان ملکوں سے صاف صاف کہہ دے کہ بہت ہوچکا اب جنگ بند کرو۔
یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ امید ظاہر کی کہ یورپی یونین بحران کے حل اور یمن پر جارحیت کے ختم کرانے میں اہم کردار ادا کرے گی تاکہ جارح کے حوالے سے عالمی پالیسیوں میں توازن پیدا ہو سکے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کروشیا، سوئیڈن، بیلجیئم، سلواکیہ، جمہوریہ چیک اور اسپین، ایسے ممالک ہیں جنہوں نے سعودی عرب کو سب سے زیادہ ہتھیار فروخت کئے ہیں۔
اس سے پہلے یمن کی قومی حکومت کے وزیر مملکت عبدالعزیز احمد البکیر نے اپنے ایک بیان میں الحدیدہ حملے کو امریکی اسرائیلی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سازش پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے امریکی صیہونی پٹھو عمل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ روکنے کے اعلان کے باجود جارح اتحاد کے حملے بدستور جاری ہیں جس سے لگتا ہے کہ جنگ بندی کا اعلان دشمن نے اپنی صفوں کو دوبارہ منظم کرنے کی غرض سے کیا تھا۔
یمن کی قومی حکومت کے وزیر مملکت نے مزید کہا کہ امریکہ پچھلے تین عشروں سے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی فکر میں ہے اور اب یہ حرص کھل کر سامنے آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے تمام تر حربوں کے باوجود ساری دنیا جان چکی ہے کہ جنگ یمن کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے جس کا مقصد عالمی تجارت پر قبضہ جمانے کی دیرینہ آرزو کو پورا کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے دو ماہ قبل یمنی عوام کو عالمی امداد پہنچانے والے واحد راستے یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر قبضہ کرنے کے لئے حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس جارحیت میں انہیں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے، تاہم یمنی عوام کی مزاحمت کے نتیجے میں ان کا یہ مقصد پورا نہیں ہو سکا ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیون نے مارچ دو ہزار پندرہ سے مشرق وسطی کے غریب اسلامی ملک یمن کو جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
سعودی جارحیت کے نتیجے میں اب تک چودہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close