کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
پاکستان

جوبھی طالبان کیخلاف بات کرے وہ انکے نشانے پر ہے

شیعیت نیوز:  پشاور میں ہونے والے خودکش حملے میں اے این پی کے رہنما ہارون بلور سمیت 20افراد کی شہادت نے سب کو غمگین کردیا ہے اور اس دھماکے نے انتخابات کے پر امن انعقاد پر بھی سوالیہ نشان اٹھادیے ہیں اور انتخابات میں شرکت کرنے والے دیگر امید واروں کی سیکورٹی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں ۔سینئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے اس سانحے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں اس واقعے میں سیکورٹی میں کہیں نہ کہیں کمی تھی ورنہ یہ واقعہ نہ ہوتا الیکشن کا موسم ہے اور سیکڑوں جلسے ہورہے ہیں امیدوار میدان میں ہیں تو یہ ممکن بھی نہیں ہے کہ پولیس اور دیگر ادارے ہر جگہ موجود ہوں لیکن جن کو زیادہ خطرات ہیں جیسے ہارون بلور تھے تو وہاں پر تو سیکورٹی ہونی چاہئے تھی منتظمین کے مطابق وہاں پر کوئی پولیس والا نہیں تھا کوئی سیکورٹی نہیں تھی اب دیکھنایہ ہے کہ کیا منتظمین نے پولیس کو اطلاع کردی تھی اور کیا ہارون بلور کی اپنی سیکورٹی مناسب تھی یہ کئی سوالات ہیں جن کا جواب آنا چاہئے ۔بلور خاندان اس لیے نشانہ ہے کہ اس کے افراد کھل کر دہشت گردوں کے خلاف بات کرتے ہیں بشیر بلور کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ جب بھی پشاور یا آس پاس کوئی واقعہ ہوتا تھا تو وہ اور میاں افتخار حسین سب سے پہلے وہاں پہنچتے تھے اور عوام کی داد رسی کرتے تھے اور ہمت بندھاتے تھے اور دہشت گردوں کو معلوم تھا کہ یہ ان کے سب سے بڑے مخالف ہیں ان کی حکومت میں بھی دہشت گردوں کی مخالفت ان کی پالیسی کا اہم حصہ تھا وہ پاکستانی طالبان کے سب سے بڑے مخالف تھے اور یہ افغان حکومت کے بھی حامی تھے ان کی پالیسی کی وجہ سے اے این پی کو بڑی مشکل پیش آئی ان کی اور پی پی کی مخلوط حکومت نے سوات کے طالبان سے امن معاہدے بھی کیے تھے بعد میں انہوں نے فوجی کارروائی کی بھی کھل کر حمایت کی تھی یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اے این پی خاص ٹارگٹ تھی اس کے علاوہ پی پی کو بھی نشانہ بنایا گیا اور دیگر رہنماوٴں میں آفتاب شیرپاوٴ پر تین بار حملے ہوئے امیر مقام پر پانچ بار حملے ہوئے مولانا فضل الرحمان پر تین بار حملے ہوئے جو بھی طالبان کے خلاف بات کرتا ہے وہ ان کے نشانے پر ہے

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker