کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
مشرق وسطی

شام میں مغربی ممالک کی ی جانب سے دہشت گردوں کو ہتھیاروں کی ترسیل کا ایک بار پھر انکشاف

جنوبی صوبے درعا میں فرانسیسی ساخت کے دو بہت ہی پیشرفتہ اینٹی ٹینک میزائل ضبط کئے گئے جہاں اس وقت دہشت گردوں کے خلاف کاروائی جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار جدل گاؤں میں ضبط ہوئے ہیں۔ آن لائن مجلہ "ڈیفنس بلاگ” کے مطابق یہ 112 ایم ایم کا اے پی آئی ایل اے ایس میزائل ہے۔ مجلہ کے مطابق مقامی میڈیا میں جاری تصاویر میں فرانس کی جی آئی اے ٹی کمپنی کے ساخت دو اینٹی ٹینک اے پی آئی ایل اے ایس میزائل نظر آ رہے ہیں۔ جی آئی اے ٹی کمپنی، فرانس کی ہتھیار بنانے والی سرکاری کمپنی ہے۔

فرانس پر 2011 سے دمشق مخالف باغیوں کی حمایت کا الزام ہے۔ اس مجلے کے مطابق اس سے پہلے بھی 2015 میں فری سیرین آرمی سے متعدد اے پی آئی ایل اے ایس میزائل سسٹم ضبط کئے گئے تھے۔ فری سیرین آرمی کو مغربی ممالک خاص طور پر امریکا کی حمایت حاصل ہے لیکن ابھی حال ہی میں شامی فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی شروع کئے جانے سے ٹھیک پہلے واشنگٹن نے فری سیرین آرمی کے دہشت گردوں سے کہا تھا کہ اب وہ جنوبی شام میں ان کا ساتھ نہیں دے پائے گا۔

رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اب تک ایک لاکھ 20 ہزار اے پی آئی ایل اے ایس میزائل علاقے میں سعودی عرب اور اردن کے سپرد کئے گئے ہیں۔ درعا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے بعد شامی فوج ہمسایہ صوبوں قنیطرہ اور سویدا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ تینوں صوبے اردن کی سرحد کے نزدیک واقع ہیں۔

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker