کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
دنیا

امریکی اور برطانوی ہتھیاروں سے یمنی بچوں کا قتل عام

امریکہ اور برطانیہ اب تک سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرچکے ہیں اور سعودی حکومت نے ضحیان سٹی میں یمنی بچوں کا قتل عام کرنے میں ان ہی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

سعودی حکومت کے جنگی طیاروں نے گزشتہ ہفتے یمن کے صوبے صعدہ کے شہر ضحیان میں ایک اسکول بس پر وحشیانہ بمباری کی تھی جس میں پچپن بچے شہید اور ستتر زخمی ہوگئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کے جاری کردہ بیان میں ضحیان میں یمنی بچوں کی بس پر سعودی حکومت کی وحشیانہ بمباری کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں امریکہ اور برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت فوری طور پر بند کردیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی پچپن علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے جاری کردہ مشترکہ بیان میں صعدہ میں اسکول بس پر سعودی حکومت کی وحشیانہ بمباری اور یمنی بچوں کے قتل عام کی تحقیقات کرانے اور اس میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان میں یمن کے خلاف انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کی روک تھام نیز اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی پچپن تنظیموں کے مشترکہ بیان میں اس گھناونے جرم میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں واقعے سے متعلق شفاف رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درایں اثنا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متحده عرب امارات کو یمنی شہریوں کے اغوا اور قیدیوں کو ایذا رسانی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارت اور اس کے ساتھ شریک دیگر قوتیں یمن میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تشدد اور ایذا رسانی نیز بعض یمنی شہریوں کے اغوا میں ملوث ہیں۔

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، امریکہ اور چند دیگر ملکوں کی حمایت سے یمن کو مارچ دوہزار پندر سے زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔

یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی غیر قانونی جنگ کے نتیجے میں اب تک چودہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور ہزاروں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ کئی لاکھ یمنی شہریوں کو سعودی جارحیت کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

سعودی جارحیت اور محاصرے کی وجہ سے عرب اور اسلامی دنیا کے اس غریب ملک یمن میں غذائی اشیا اور دواؤں کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور تنظیمیں کئی بار امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب کے حامی دیگر ملکوں سے مطالبہ کرچکی ہیں کہ وہ ریاض حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ فروری طور پر بند کردیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close