کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
یمن

یمن میں سعودی جارحیت اور قحط کی علامت بننے والی بچی دم توڑ گئی

یمن کے پناہ گزین کیمپ میں خوراک و پانی سے ترستی 7 سالہ امل حسین کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا وہ شمع جس کی لو ابھی ٹھیک سے بھڑکی بھی نہ تھی کہ سعودی جنگ کی بے رحم ہوا کا شکار ہوگئی۔

شمالی یمن کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم امل کی والدہ مریم علی نے اپنی بیٹی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہر وقت مسکرانے والی امل کی جدائی سے میرا دل ریزہ ریزہ ہو گیا ہے اور اب میں اپنے دیگر بچوں کے لیے پریشان ہوں۔

امل کی ڈاکٹر مکیہ مہدی نے بتایا کہ اس کیمپ میں امل جیسے کئی بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ سہولیات کی کمی اور تجربہ کار عملے کے فقدان کے باعث ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر پارہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی نیو یارک ٹائمز میں امل حسین کی تصویر چھپی تھی جس نے پوری دنیا کو یمن میں جنگ کے ساتھ ساتھ قحط سے نبرد آزما معصوم بچوں کی جانب توجہ دینے کے لیے مجبور کردیا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر گریٹ کیپلیئر کا کہنا ہے کہ یمن کی جنگ، صورت حال کو مزید ابتر بنا رہی ہے کیونکہ عرب دنیا کی یہ غریب ترین قوم پہلے ہی خراب حالات میں جی رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے ایک مہینے کے اندر امن بات چیت شروع کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگلے 30 دن امداد کی تقسیم اور زندگیاں بچانے کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ 2015ء سے 6 ہزار سے زیادہ بچے یا تو شہید کیے جا چکے ہیں یا وہ شدید زخمی ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جو ہماری گنتی میں آئی لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔

سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker