کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
پاکستان

افغانستان میں مبینہ طور پر داعش کے ہاتھوں طاہر داوڑ کے قتل کی تحقیقات کیلئے سات رکنی جے آئی ٹی تشکیل

شیعیت نیوز:  چیف کمشنر اسلام آباد کی منظوری سے افغانستان میں مبینہ طورپرداعش کے ہاتھوں شہید کئے گئے ایس پی پشاور طاہر داوڑ کے اغواء اور قتل کیس کی تحقیقات کیلئے 7 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دیدی گئی ہے۔ پولیس کی درخواست پر چیف کمشنر اسلام آباد نے ایس پی طاہر داوڑ کے اغواء اور قتل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی منظوری دی ہے جس کے بعد جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن ہوں گے، جبکہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی، ایم آئی، ایس پی، ایس ڈی پی او شالیمار اور ڈی ایس پی سی آئی ڈی کا ایک، ایک نمائندہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ جے آئی ٹی کل سے اپنا کام شروع کریگی۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے شہید طاہر داوڑ کے لواحقین کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے شہید پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ بی پی ایس 17 میں خدمات سر انجام دے رہے تھے، اس لئے کے پی حکومت نے ان کی بہترین خدمات اور شہادت پر پیکیج کا اعلان کیا، جس میں مالی امداد اور پلاٹ بھی شامل ہے۔ شوکت یوسفزئی کے مطابق شہید ایس پی کی 60 سالہ ریٹائرمنٹ تک ان کی اہلیہ کو تنخواہ دی جائے گی، ان کے ایک بیٹے کو اے ایس آئی بھرتی کیا جائے گا اور شہید کے بچوں کی تعلیم کیلئے اسکالرشپ دی جائے گی، جبکہ شہید کی بیوہ اور بچوں کو مفت طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close