پاکستان

کچھ طاقتیں دہشت گردی کو اپنے مخالف ممالک کے خلاف استعمال کر رہی ہیں، فخر امام

شیعیت نیوز: سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ناقابل فراموش واقعہ ہے، آج دنیا کا سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی ہے، وزیراعظم عمران خان ایک دلیر انسان ہیں، تعلیمی میدان میں ترقی حاصل کرکے معصوم شہیدوں کا لہو رائیگاں ہونے سے بچایا جاسکتا ہے، ان خیالات کا اظہار سابق سپیکر و ممبر قومی اسمبلی سید فخر امام نے تحریک انصاف کے زیراہتمام شہدائے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی یاد میں میونسپل کمیٹی ہال کبیروالا میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی خواہش پر ان کے ہمراہ بیرون ملک ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، جس میں 6 ممالک روس، چین، افغانستان، ترکی، پاکستان اور ایران شریک تھے، جن کا موضوع دہشت گردی تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ عالمی ناسور بن چکا ہے، کچھ طاقتیں دہشت گردی کو اپنے مخالف ممالک کے خلاف استعمال کر رہی ہیں، عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک کو دہشت گردی  کے ذریعے نقصان پہنچائے جانے کے خدشات لاحق ہیں۔ دہشت گردی کو ایکدم ختم نہیں کیا جاسکتا، حکمت عملی اور موثر اقدامات کے ذریعے دہشت گردی  سے بتدریج چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو بطور کرکٹر جانتا ہوں کیونکہ اس وقت میرا تعلق بھی کرکٹ بورڈ سے تھا، عمران خان ایک دلیر انسان ہے، دیکھنا ہے کہ وہ بطور وزیراعظم درپیش چیلنجز اور حکمرانی کے تقاضوں سے کس طرح نمٹتے ہیں، کیونکہ حکومت اور حکمرانی کے تقاضے پورے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 14 کے قریب ٹاسک فورسز بنائی جاچکی ہیں، جو خوش آئند ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا فیصلہ ہونے کے بعد آئندہ چند دنوں میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل مکمل ہونے سے پارلیمنٹ مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو ہر 8 سے 10 سال بعد نئی قیادت میسر ہوتی ہے، ماضی میں بھی کچھ لوگوں کو مواقع ملے کہ وہ پاکستان کو آگے لے جاتے اور قوم کی خدمت کرتے، لیکن بدقسمتی انہوں نے ایسا نہیں کیا، چین، پاکستان سے بھی زیادہ غربت کا شکار تھا، چینی قوم کو قیادت میسر ہوئی تو قیادت نے اپنے نظریات پر ڈٹ جانے کی بجائے اپنی قوم کا طرز زندگی بدلنے کے بارے میں سوچا، تعلیمی اور صنعتی اعتبار سے انقلاب برپا کرکے خود کو معاشی حوالوں سے سپر پاور بنایا، آج چین کے 25 سو ارب ڈالر امریکہ کے خزانے میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو کھل کر اس بات کا اظہار کرنا چاہیئے تھا کہ خزانہ خالی ہے، عالمی و ایشیائی مالیاتی اداروں اور مختلف ممالک سے لیا گیا قرضہ واپس لوٹانا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close