مقالہ جات

ملعون لدھیانوی سے ھاتھ ملانے والوں سے شہید علامہ حسن ترابی کہ بیٹے کا شکوہ

شیعیت نیوز: شہیدوں کا شکوہ !تصویریں جو دل جلاتی رہی قبروں میں ہمیں ستاتی رہی !آج میرا شکوہ اپنوں سے ہے ،ہم کیوں شکوہ کرے قاتل سے،ہم کیوں شکوہ کرے اداروں سے جو جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں ،ہمیں شکوہ تو اپنوں سے ہے جی باکل ان اپنوں سے کہ جو دھرنے اور شہیدوں کہ جنازوں پر تکفیری ،سپاہ صحابہ کہ دہشتگردوں کو قاتل بتاتے رہے،ان کو پاکستان میں فرقہ واریت کا زمہدار کہتے رہے لیکن ان سے بس اتنا پوچھنا ہے کہ جب آپ ان کہ ساتھ ہیلی میں بیٹھے ہوگے تو آپ نے قاتل سے گلے ملتے ہوے اپنے شہیدوں کہ سینوں میں لگانے والی گولیوں کا درد تو محسوس کیا ہوگا؟آپ کو کوئٹہ میں ۱۰۰ افراد کہ وہ جنازے تو یاد آے ہوگے کہ جو آج بھی انصاف کہ منتظر ہیں؟آپ نے ایک بار تو ان قاتلوں سے کہا ہوگا کہ تم دہشتگرد ہوجس طرح شہیدوں کہ جنازوں پر کہتے تھے؟آپ کو عباس ٹاون کہ وہ شہدا کہ گھرانے کیوں بھول گئے کہ جن کو صرف محبت اہلبیت ع میں ان کہ گھروں سمیت اڑا دیا گیا؟ آپ کو شہید ضیاالدین ،شہید حسن ترابی ،شہید مختار بخاری،شہید عسکری رضا،شہید خرم زکی شہید قیصر چغتائی ،شہید علامہ الطاف الحسینی ،شہید علامہ آفتاب حسین اور تمام شہداے ملت کی پاکیزہ روحیں اس ملاقات کہ بعد خواب میں آئی ہو گی اور یہی شکوہ کرتی ہوگی کہ تم میرے قاتلوں سے ملتے وقت ہماری قربانیوں کو کیوں بھول گئے؟

 

تحریر :جمال ترابی
فرزند شہید علامہ محمد حسن ترابی

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close