مقالہ جات

مودی کی فلم فلاپ ہوگئی

شیعیت نیوز: یوں لگتا ہے کہ بھارت میں کثرت سے نشر ہونے والی فلمیں اور ڈراموں نے بھارتی سیاستدان تو سیاستدان پروفیشنل آرمی کو بھی ڈئیلاگ بازی خوب سیکھادی ہے ۔
کشمیر کے پلوامہ میں بھارتی قابض افواج پر ہونے والے ایک حملے کے بعد جس قسم کی فلمی ڈئیلاگ بھارت کے سیاستدان سے فوج اور پھر میڈیا تک بولے جارہے ہیں اگر اسے کوئی ڈائریکٹر اکھٹا کرے تو اس کی اگلی فلم یا ڈرامے کے لئے بنے بنائے اچھے ڈئیلاگ مل سکتے ہیں ۔

اگر انتہائی انصاف پسندانہ تجزیہ و تبصرہ کیا جائے تو اب تک اس ڈئیلاگ بازی اور الزام تراشی کے میں کوئی بھی منطقی اور اصولی بات سامنے دیکھائی نہیں دیتی ۔
انڈین وزارت خارجہ کے بیان کو ہی لیں جو کہ ایک آفشل بیان ہے ،پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر دلائل کے بجائے گلہ نظر آتا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ’’حملے کو دہشت گردانہ حملہ بھی نہیں مانا اور نہ ہی اس کے متاثرین کے لیے کوئی ہمدردی ظاہر کی ‘‘۔

جبکہ پاکستان نے واقعے کے فورا بعد ہی اپنا موقف واضح طور پر دے چکا تھا اور اس واقعے کی مذمت بھی کی تھی ۔
بھارتی متعصب وزیراعظم کہتا ہے کہ’’ پاکستان سے بات چیت کا وقت اب نکل چکا ہے ۔ اب کاروائی کا وقت ہے ‘‘‘۔

جبکہ پاکستانی وزیر اعظم نے انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا اور انتہائی منطقی بات کی کہ ’میں آج بھارت کی حکومت کو پیش کش کر رہا ہوں کہ اگر آپ اس واقعے کی کسی قسم کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی معلومات ہے تو ہمیں دیں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ایکشن لیں گے ۔۔۔ دباؤ کے باعث نہیں بلکہ اس لیے کہ کوئی دہشت گردی کے لیے ہماری سرزمین استعمال کر رہا ہے تو وہ ہمارے ساتھ دشمنی کر رہا ہے۔‘‘

انہوں نے ساتھ میں یہ بھی سمجھا دیا کہ منطقی اور عاقلانہ گفتگو کا مطلب بزدلی یا خوف نہیں ہے ’’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان پر کسی قسم کا حملہ کریں گے تو پاکستان جواب دینے کا سوچے گا نہیں بلکہ جواب دے گا۔ جنگ شروع کرنا انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن جنگ کا خاتمہ انسان کے ہاتھ میں نہیں۔‘‘
عمران خان بھارت کی توجہ اصل ایشو کی جانب متوجہ بھی کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ بھارت سوچے ’’بھارت میں نئی سوچ آنی چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ کشمیری نوجوان اس انتہا پر پہنچ گئے ہیں کہ ان میں موت کا خوف ختم ہو گیا ہے۔‘‘
یہی وہ اہم نکتہ ہے کہ جس سے بھارت بھاگ کھڑا ہوتا ہے

دوسری جانب پاکستان مزید ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اقوام عالم کے پلیٹ فارم اقوام متحدہ کو بھی اپروچ کیا پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےبڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اقوام متحدہ سے مداخلت کرنے کی درخواست بھی کردی۔
یہ بات واضح ہے کہ الیکشن کے قریب ریلیز ہونے والی مودی سرکارکی پلوامہ فلم بری طرح فلاپ ہوچکی ہے گرچہ وہ اب بھی اس زور شور کے ساتھ چلانے کی کوشش کررہا ہے۔

 

بشکریہ

https://www.facebook.com/FocusonWestandSouthAsiaURDU/?ref=bookmarks

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close