کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
یمن

سعودی اتحاد کے ٹھکانے پر یمنی فوج کے حملے

یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس کے میزائل یونٹ نے منگل کی رات جنوبی سعودی عرب کے صوبے جیزان کے علاقے خوبہ میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو ملک کے اندر تیار کیے جانے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
اس حملے میں سعودی اتحاد میں شامل کم سے کم ستر کرائے کے فوجی ہلاک ہو گئے جن میں کئی ایک فوجی افسران بھی شامل ہیں۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے اس سے پہلے جیزان کے پہاڑی علاقے النار میں بھی سعودیی فوجی اہداف کو اندرونی ملک تیار کیے جانے والے بدر ایک قسم کے میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔
ایک اور اطلاع کے مطابق یمنی فوج نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں کئی ایک سرحدی چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور سعودی فوجی وہاں اپنے ہتھیار چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
دوسری جانب یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کے حملوں اور جارحیت کے باوجود انصار اللہ تحریک منصفانہ امن کے قیام کی خواہاں ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوشی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد علی الحوثی نے کہا کہ یمن کی نیشنل سالویشن حکومت امن کے حصول کی خواہش پر سختی کے ساتھ کاربند ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر سعودی اتحاد جنگ پر تلا رہا تو یقینا اسے یمنی عوام اور انقلابی قوتوں کے بھرپور جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے امن کے حامی ملکوں سے اپیل کی کہ وہ جارہ سعودی اتحاد کو امن کے راستے پر لانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
محمد علی الحوثی نے الحدیدہ میں جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ انصاراللہ اسٹاک ہوم امن معاہدے کی بنیاد پر فوجوں کی صف آرائی میں تبدیلی کے لئے تیار ہے تاہم جارح ممالک جس قسم کی پسپائی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ ناقابل قبول ہے۔
واضح رہے کہ اسٹاک ہوم امن سمجھوتے کی بنیاد پر اٹھارہ دسمبر سے شہر الحدیدہ میں فائربندی کے سمجھوتے کا نفاذ عمل میں آیا ہے تاہم سعودی اتحاد نے اب تک اس سمجھوتے پرعمل نہیں کیا ہے۔
سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close