پاکستان

جشن مولود کعبہ اورنویں یوم تاسیس جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور کا شاندار انعقاد،شیعہ سنی علمائے کرام کا خطاب

شیعیت نیوز: جشن مولود کعبہ اورنویں یوم تاسیس جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور کا شاندار انعقاد،شیعہ سنی علمائے کرام کا خطاب،مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت اور جامعہ عروة الوثقیٰ کے 9 ویں یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تحریک بیداری امت مصطفی کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کو نبوت و رسالت کی تصدیق کرنے میں امت اسلامیہ میں وہ امتیاز حاصل ہے، جو کسی اور کے پاس نہیں۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر مولائے کائنات نے سب سے پہلے اعلان کیا کہ وہ سیدالمرسلین کا ساتھ دیں گے۔ قرآن کا راستہ اور رخ دیکھ کر چلیں گے تو سبقت حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ کا امتیاز حضرت علی علیہ السلام کا پیروکار ہونا اور امامت کا دامن تھام کے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب، امریکہ اور اسرائیل نے مل کر تشیع کا مقابلہ کرنا چاہا مگر ناکام رہے۔ جامعہ عروة الوثقیٰ کسی بیرونی امداد نہیں، پاکستان کے مومنین کی کاوش اور پسماندگی سے نکلنے کے سفر کا آغاز ہے، وحدت صرف انتخابات کے دنوں میں ہی نہیں، پورا سال نظر آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور دین میں قرآن کی زبان استعمال کرنی چاہیے۔ قرآنی راستہ اختیار کرکے امت اسلامیہ مختلف اکائیوں سے جمعیت بن سکتی ہے۔

اجتماع سے پیر شکیل الرحمان مردان، راجہ فیاض رانجھا تبلیغی مرکز رائیونڈ، ڈاکٹر عبدالجمیل منصوری، علامہ شفاعت رسول، مولانا واجد علی جامعہ سمیعہ چارسدہ، مفتی سیف اللہ نظامی بادشاہی مسجد، مولانا ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد عباس وزیری گلگت، شیخ نیئر عباس مجلس وحدت مسلمین، سید جمیل حسن شیرازی پشاور، مولانا عابد شاکری کلایہ اورکزئی ایجنسی اور دیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے سیرت امیر المومنین پر عمل کرنے اور اتحاد امت کے فروغ پر زور دیا۔ پیر مقدس کاظمی نے مولائے کائنات کی شان میں منقبت پیش کی۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ امامت میں حضرت علیؑ سب پر سبقت رکھتے ہیں۔ امام المتقین کو اللہ نے امام بنایا، لوگوں کے چنے امام بھی امیرالمومنین کی فضیلت اور ہر میدان میں سبقت کو تسلیم کرتے ہیں۔

اہلسنت کتابوں ینابع المودة اور شرح نہج البلاغہ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ حضرت عمر ابن خطاب نے ایک محفل میں امیرالمومنین علی ؑپر تنقید پر ناراضگی کا اظہار کیا اور خواہش کی کہ کاش اللہ تعالیٰ آل خطاب میں رسول اللہ کی حمایت میں سبقت کی فضیلت رکھ دیتا تو یہ ان کیلئے پوری دنیا کے امور سے افضل ہوتی۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ جامعہ عروة الوثقیٰ عظیم نعمت اور مومنین کے عزم کا عملی نمونہ ہے، جو پاکستانیوں کی مالی کاوش سے بنا ہے۔ یہ عظیم درسگاہ کوئی عربی یا ایرانی بنا دیتا تو ہم نگاہ اٹھانے کے قابل نہ ہوتے، طالبات کی عظیم درسگاہ جامعہ ام الکتاب بھی اپنی مثال آپ ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close