دنیا

دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ کے سر کی قیمت 3 ارب روپے مقرر

امریکا کے اتحادی فوجیوں نے طیاروں کے ذریعے عراق کے شہر الرمادی میں پمفلٹ گرائے جس میں شہریوں سے درخواست کی گئی کہ وہ دہشت گرد تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے ٹھکانے سے متعلق معلومات فراہم کریں۔

امریکا کی جانب سے پمفلٹ میں کہا گیا کہ ’ابوبکر البغدادی کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے‘۔

اس ضمن میں الرمادی شہر کی پولیس نے بتایا کہ ’منگل کی شب الرمادی میں طیارے کے ذریعے پمفلٹ گرائے گئے جس میں شہریوں سے داعش کے سربراہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ پمفلٹ میں درج تھا کہ ’داعش کے لیڈر اور جنگجوؤں نے آپ کی زمین پر قبضہ کیا اور آپ کے اہلخانہ کو قتل کیا‘۔

اس میں مزید درج تھا کہ ’ابوبکر البغدادی نے تباہی اور موت کو مسلط کیا ، وہ اب اسی تباہی اور موت چھپ کر آرام سے روپوش زندگی گزار رہا ہے‘۔

پمفلٹ میں کہا گیا کہ ’آپ (ابوبکر البغدادی) کی معلومات فراہم کرکے اس سے اور اس کی پھیلائی ہوئی تباہی کابدلہ لے سکتے ہیں‘۔

دوسری جانب عراقی انٹیلی جنس کے مطابق ابوبکر البغدادی جنوبی شام کے علاقوں میں روپوش ہے اور انتہائی مختصر اور قابل اعتماد لوگوں کے ہمراہ سفر کرتا ہے۔

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ’ابوبکر البغدادی کا بیٹا بھی ان لوگوں میں شامل ہے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں داعش کی جانب سے قرار کیا گیا تھا کہ ان کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے بیٹے شامی فوج سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

ابو بکر البغدادی کے بیٹے کے ہلاک ہونے کی خبر تنظیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سامنے آئی جس میں ایک نوجوان کی تصویر، جس کے ہاتھ میں رائفل تھا، بھی شیئر کی گئی اور اس کا نام حذیفہ البدری بتایا گیا۔

واضح رہے کہ شامی اور عراقی شہریوں کا کہنا ہے کہ ابوبکر البغدادی کو امریکا اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ ابوبکر البغدادی کے حوالے سے بھی ہلاک ہونے اور زخمی ہونے کی کئی خبریں سامنے آچکی ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close