پاکستان

حافظ سعید، 37 ساتھی ای سی ایل پر، جماعت الدعوۃ کی قیات کے بیرون ملک جانے پر پابندی

شیعیت نیوز:  وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت 38سرکردہ رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیے ہیں۔ بدھ کو جاری ہونے والی فہرست کے مطابق وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے 38 سرکردہ رہنماوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے ہیں جن کا تعلق لاہور، کراچی، کوئٹہ، مظفرآباد، فیصل آباد، شیخوپورہ، ہری پور، کوہاٹ، سانگھڑ، سکھر، گجرانوالہ، اٹک، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاک پتن، ملتان، وہاڑی، خانیوال، لیہ ، ڈیرہ غازی خان اور گلگت بلتستان سے ہے جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے تمام صوبائی حکومتوں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کو فہرست جاری کردی گئی ہے جس میں تمام افراد کی ای سی ایل آئی ڈی، نام ، والد کا نام، گھر کا پتہ اور شناختی کارڈ نمبر درج ہے اور جماعت الدعوۃ کی قیادت سمیت فہرست میں موجود افراد کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق کے جاری کردی نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267کے مطابق واچ لسٹ پر تھی اور سیکنڈ شیڈول آف اے ٹی اے 1997کے تحت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق حافظ سعید، عبداللہ عبید، ظفر اقبال، عبدالر حمان عابدی اور قاضی کاشف نیاز مذکورہ تنظیموں کے سرگرم ارکان میں شامل تھے اور اسی لیے ان افراد کو نظربند کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف کارروائی کرنے پر بھارت کی جانب سے کوئی سرٹیفکیٹ یا توثیق نہیں چاہیے۔ترجمان وزارت داخلہ نے حافظ سعید سے متعلق بھارتی دفتر خارجہ کے بیان پر ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ ʼپاکستان نے جماعت الدعوۃ سے متعلق عالمی ذمہ دار یا ں پوری کی ہیں، پاکستان کو بھارت کے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ اپنے بیان میں ترجمان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آزاد اور خودمختار عدلیہ موجود ہے، بغیر ثبوت الزامات خطہ میں امن کےلیے مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ʼبھارت حافظ سعید کی سیاسی سرگرمیوں کو پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ترجمان وزارت داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں کی عدلیہ آزاد ہے، اگر بھارت اپنے عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے واقعی سنجیدہ ہے تو حافظ سعید کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے لائے جسے پاکستان یا دنیا کی کسی بھی عدالت میں تسلیم کیا جاسکے۔ بیان میں سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے حوالے سے کہا گیا کہ اس واقعے میں 68 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ ترجمان وزارت داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ʼپاکستان اب تک بھارت کی جانب سے وضاحت کا منتظر ہے کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث ملزمان کو اب تک سزائیں کیوں نہیں مل سکیں

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close