اہم ترین خبریںپاکستان

سانحہ کربلا: چار محرم 61ہجری کے کچھ اہم واقعات پر نظر

ابن زیاد نے کوفہ کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کرنے کا حکم دیا، تاکہ اہل کوفہ اور باقی علاقوں کے رہنے والوں کو امام حسین علیہ السلام کی نصرت سے روکا جا سکے۔

شیعیت نیوز: چار محرم الحرام61ہجری کو کوفہ کے والی عبید اللہ بن زیاد نے مسجد کوفہ میں ایک دھمکی آمیز خطبہ دیا جس میں اس نے امام حسین علیہ السلام کی مدد کرنے والوں کو قتل اور سزائے موت دینے کی دھمکی دی، اور ساتھ ہی امام حسین علیہ السلام کے خون کے مباح ہونے کے متعلق قاضی شریح کا فتوی بھی پڑھ کر سنایا۔

ابن زیاد نے کوفہ کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کرنے کا حکم دیا، تاکہ اہل کوفہ اور باقی علاقوں کے رہنے والوں کو امام حسین علیہ السلام کی نصرت سے روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کی یزید گردی، عزاداروں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج شروع

ابن زیاد نے کچھ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور کچھ کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور بہت سے مخلص لوگوں کو گرفتار کر کے زندان میں ڈلوا دیا اور زندان میں ڈالے گئے یہی لوگ جب باہر نکلے تو انھوں نے اپنے لیے توابین کا لقب اختیار کیا اور سلیمان بن صرد کی سربراہی میں اموی حکومت کے خلاف جنگ کی اور جام شہادت نوش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں انسانی اقدار کو سب سے زیادہ پامال کیا جاتا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای

قبائل کے سرداروں کی ایک بڑی تعداد بنو امیہ کی محبت یا مال کی لالچ میں ابن زیاد کے ساتھ مل گئی اور قبائلی نظام کے تحت اہل قبائل نے اپنے سرداروں کی فرمانبرداری کرتے ہوئے علوی محبت کے حامل لوگوں کے خلاف جنگ کی اور بنو امیہ کی مدد کی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close