کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںپاکستان

صدارتی کیمپ آفس دھرنےکا ثمراورعید کا تحفہ، 5شیعہ اسیر عدالت سے ضمانت پررہا

واضح رہے کہ ان پانچوں شیعہ اسیروں کی رہائی خوش آئند اقدام ہے مگر تاحال کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں سے درجنوں شیعہ جوان اب بھی جبری طور پر لاپتہ ہیں جن کی مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ، بیٹیاں اور بچے انکی راہ تک رہے ہیں 

شیعت نیوز: 5شیعہ جبری گمشدہ افرادکو سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت منظورکرتے ہوئے رہاکردیا۔پانچوں اسیروں کا کیس ملٹری کورٹ سے سندھ ہائی کورٹ منتقل کیا گیاتھا۔ رہائی پانے والوں میں نعیم حیدر، حسین احمد جعفری، زاہد کشمیری، محمد علی کشمیری، اور فراز اصغر شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صدارتی کیمپ آفس کراچی کے باہر اہل خانہ شیعہ جبری گمشدگان کے چند ماہ قبل دیئے گئے 13روزہ طویل دھرنے کی ثمرات کے نتیجے میں سندھ ہائی کورٹ نے 5شیعہ جبری گمشدہ افرادکوپہلی پیشی پر ہی ضمانت قبول کرتے ہوئے رہاکرنا کا حکم نامہ جاری کردیاہے۔عید سعید قربان کےپرمسرت موقع پر اپنے پیاروں کی رہائی کی خبرنے اہل خانہ شیعہ جبری گمشدگان کی خوشیوں کو دوبالاکردیاہے ۔کئی کئی سالوں سے اپنے پیاروں کی راہ تکتی یہ مائیں بہنیں الحمد اللہ اس عید کی خوشیاں اپنے پیاروں کے ہمراہ منائیں گیں۔

یہ بھی پڑھیں: اعلیٰ ریاستی اداروں سے کامیاب مذاکرات ، 19مسنگ پرسنز ظاہر ہونے کے بعد13روزہ دھرنا ختم کرنےکااعلان

ذرائع کے مطابق رہائی پانے والوں میں کراچی کے علاقے گلبہار سے تعلق رکھنے والے نعیم حیدر، حسین احمد جعفری، زاہد کشمیری، محمد علی کشمیری، اور فراز اصغرشامل ہیں جنہیں کئی کئی سالوں سے پہلے جبری طورپر لاپتہ رکھاگیاتھا لیکن چند ماہ قبل ان کے اہل خانہ کی جانب سے دیئے گئے تاریخی دھرنے کے نتیجے میں پہلے ان کی گرفتاریاں ظاہر کرکے پولیس کے حوالے کیا تھا اور آج سندھ ہائی کورٹ نے ان پانچوں کی رہائی کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔جبکہ شیرازحیدر کو 28اگست کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا اور ا ن کی بھی رہائی متوقع ہے ۔

واضح رہے کہ ان پانچوں شیعہ اسیروں کی رہائی خوش آئند اقدام ہے مگر تاحال کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں سے درجنوں شیعہ جوان اب بھی جبری طور پر لاپتہ ہیں جن کی مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ، بیٹیاں اور بچے انکی راہ تک رہے ہیں اور ریاستی اداروں سے پر نم آنکھوں کے ساتھ سوال کرتے ہیں کہ اور کتنی عیدیں ہم اپنے عزیزوں کے فراق میں گذاریں گے ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close