اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

سعودی عرب کی خدمات برائے پاکستان و عالم اسلام

سعودی عرب کی خدمات برائے پاکستان و عالم اسلام

سعودی عرب کی خدمات برائے پاکستان و عالم اسلام کے عنوان سے اس مقالے کا مقصد زمینی حقائق کی روشنی میں پاکستان و سعودی تعلقات پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا ہے۔ آج کل پاکستانی قوم پر خوشگوار حیرت طاری ہے۔ اسکا سبب کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف یوم استحصال کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا وہ موقف ہے جو اے آر وائی نیوز چینل پر کاشف عباسی کے آف دی ریکارڈ پروگرام کے توسط سے قوم نے دیکھا اور سنا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کی جانب سے کشمیر ایشو پر عدم تعاون پر مایوس نظر آئے۔ انہوں نے سعودی سربراہی میں جدہ سے چلائی جانے والی مسلمان ممالک کی بین الاقوامی تنظیم او آئی سی کی سستی و کاہلی پر تنقید کی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مایوس

انہوں نے سانحہ پانچ اگست 2019ع کے بعد سے او آئی سی کو اسکے اقدامات و سکوت کی طرف توجہ دلائی۔ وزیر خارجہ نے بجاطور پر یاد دلایا کہ فلسطین اور کشمیر کے ایشوز پر اب او آئی سی کی فعالیت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے بجاطور پر سانحہ بابری مسجد کی طرف توجہ دلائی۔

بابری مسجد کے پلاٹ پر رام مندر تعمیر

جب پاکستانی پانچ اگست 2020ع کو یوم استحصال منارہے تھے تب بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی اسی بابری مسجد کے پلاٹ پر رام مندر تعمیر کررہے تھے۔ وشوا ہندو پریشاد کے انتہاپسندوں نے 6دسمبر 1992ع کو ایودھیا شہر میں بابری مسجد کو غیرقانونی طور پرمنہدم کردیا تھا۔

Live Stream: Minister of Foreign Affairs Shah Mahmood Qureshi Exclusive Talk on ARY News Off The Record with Kashif Abbasi (05.08.20)

Live Stream: Minister of Foreign Affairs Shah Mahmood Qureshi Exclusive Talk on ARY News Off The Record with Kashif Abbasi (05.08.20)#Pakistan 🇵🇰 #Kashmir #UnitedNations 🇺🇳 #OIC #DayofExploitation #IIOJKUnderSiege #5thAugustBlackDay #YOUM_E_ISTEHSAL

Gepostet von Shah Mahmood Qureshi am Mittwoch, 5. August 2020

پاکستانی مسلمانوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے آپ سے پوچھنا کہ اس نوعیت کا وحشی پن اور غیر انسانی عمل کیا انہیں سعودی عرب کے حکمران آل سعود خاندان اور انکے مذہبی اتحادی آل شیخ کے جنونی ناصبی وہابیوں میں نظر نہیں آتا۔

سعودی ناصبی وہابیت کا نظریہ

مودی نے منہدم بابری مسجد کے پلاٹ پر رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تو مسلمانوں کو سانحہ جنت البقیع کی یاد آگئی۔ کیا یہی سعودی ناصبی وہابیت کا نظریہ نہیں رہا کہ مقامات مقدسہ کو مسمار کرکے زمین بوس کردیا جائے۔

جی ہاں، آل سعود اور ناصبی وہابی جنونیوں نے جنت البقیع مدینہ اور دیگر مقامات مقدسہ پر بزرگان کے مزارات کومنہدم کیا۔ اسی غلط نظریے کے تحت وہاں مساجد بھی مسمار کیں۔ اپریل2016ع میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو اعلیٰ ترین سعودی شاہ عبدالعزیز قومی اعزاز بھی سعودی بادشاہ نے دیا۔

متنازعہ کشمیری علاقوں کو بھارت نے اٹوٹ انگ بنالیا

تب سے مودی اسلام دشمن و مسلمان دشمن و پاکستان دشمن اقدامات کے حوالے سے بے لگا م دکھائی دیے۔ سارک سربراہی کانفرنس کے پاکستان میں انعقاد پر بائیکاٹ کردیا تو وہ کانفرنس ہی نہ ہوسکی۔ کشمیریوں کو سانحہ پانچ اگست2019ع سے دوچار کرکے انکی خاص حیثیت سے محروم کردیا۔ انکے حق خودارادیت کو پامال کرکے متنازعہ کشمیری علاقوں کو بھارت نے اٹوٹ انگ بنالیا۔

بھارتی مسلمان شہریوں کی تذلیل

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے مدد اور حمایت ملتے ہی نریندرا مودی نے یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات کئے کہ جس سے عام بھارتی ہندو بھی غمزدہ ہوں گے۔ خاص طور پر آسام میں اور بنگال میں اور دیگر علاقوں بشمول نئی دہلی میں مسلمانوں کو ہدف بنا کر بھارتی مسلمان شہریوں کی تذلیل کی۔ آسام میں تو مال مویشی کی طرح مسلمانوں کو رکھے جانے کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوچکیں ہیں۔

شہریت کا متنازعہ قانون منظور کرکے اسکی آڑ میں بھارتی مسلمان شہریوں کو خاص طور پر تنگ کرنے کیا گیا۔ سال1971ع میں مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش) میں غیر قانونی مداخلت کرنے والا بھارت آج نریندرامودی کی بی جے پی حکومت بھارت کے بنگالی مسلمان شہریوں سے کہہ رہی ہے کہ ثابت کرو کہ 1971ع سے پہلے بھارت کے شہری تھے یا تمہارے باپ دادا یہاں کے شہری تھے۔

سعودی عرب فلسطین ایشوکو دفنا چکا

جو سعودی عرب خود عرب مسلمانوں کے زندگی موت ایشو فلسطین کو دفنا چکا، وہ عجمی مسلمانوں کے زندگی موت ایشو کشمیر پر کیوں کر مخلص ہوسکتا ہے۔ او آئی سی بناکر سعودی بادشاہت نے اپنی آل سعود خاندان کی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔ ورنہ دنیا بھر کے مسلمان توآل سعود بادشاہ کو خائن حرمین شریفین کہا کرتے تھے۔ کیونکہ آل سعود ناصبی وہابی خاندان نے سنی ترک سلطنت (خلافت عثمانیہ) کے سقوط میں برطانوی، فرانسیسی و امریکی سامراج کے سہولت کار کا خائنانہ کردار ادا کیا تھا۔ اور اسی کے بدلے میں عالمی سامراج نے اسے مسلمانوں کے قبلہ و کعبہ پر حاکم کی حیثیت سے مسلط کیا تھا۔

 مودی سعودی بادشاہت کی ناصبی وہابیت کا مقلد

نریندرا مودی سعودی بادشاہت کی ناصبی وہابیت کا مقلد ہے۔ جوں جوں اس کو سعودی، اماراتی و بحرینی تھپکی ملتی گئی، وہ شیر ہوتا چلا گیا۔ مسلمانوں کو فرقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت پر اکسانے والے سارے ناصبی و غالی سعودی عرب کے ہی آلہ کار ہیں۔

مذہبی انتہا پسند سعودی ناصبی وہابی نظریے کے پیروکار

پاکستان کی ٹانگ افغانستان کی جنگ میں گھسیٹ کر سعودی عرب نے افغانستان و پاکستان کوایسے جہنم میں تبدیل کردیا کہ جس کی آگ آج بھی نہ صرف اس خطے کو بلکہ پوری دنیا کو جھلسا رہی ہے۔ اسلام کو بدنام کرنے والے سارے بدنام زمانہ دہشت گرد اور مذہبی انتہا پسند سعودی ناصبی وہابی نظریے کے پیروکار تھے اور ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کی ماں

پاکستان میں دہشت گردی کی ماں انجمن سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی کے مولوی لدھیانوی، معاویہ اعظم یا سابقہ عہدیدار طاہر اشرفی شرابی، سبھی سعودی عرب کے کوٹہ پر پاکستان میں علی الاعلان دہشت گردی اور نفرت و تعصب پھیلاتے ہیں۔ اور اب مولوی اشرف دجالی بھی اسی صف میں آن کھڑا ہوا ہے۔

سعودی عرب نے پاکستان کو محض قرضے دیے ہی یا ادھار پر تیل۔ لیکن پاکستان نے سعودی عرب کے لئے اس طرح خدمات انجام دیں ہیں جسے پاکستان کی اصطلاح میں بیگار کیمپ کہیں تو مناسب ہوگا۔ پاکستان کے غیر آئینی حکمران جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف دونوں ہی سعودی عرب کے لاڈلے تھے۔

سعودی عرب کی خدمات برائے پاکستان و عالم اسلام

جسے بھی اسلام و انسانیت سے تھوڑی سی بھی ہمدردی ہے یا دینی و قومی غیرت ہے، یا باضمیر ہے تو اپنے آپ سے پوچھے کہ پاکستان میں نفرت و انتہاپسندی کا سرچشمہ سعودی عرب نہیں ہے۔ کیا مزارات پر خودکش بمبار جو پھٹتے رہے ہیں، کیایہ سعودی محمد بن عبدالوہاب کا نظریہ نہیں تھا؟ یہ اسی کا ناصبی نظریہ تھا کیونکہ اسی کے تحت اہل بیت ع، امہات المومنین ؓ اور صحابہ کرام ؓ کے مزارات و قبور کی بے حرمتی کی جاتی رہی۔

سعودی عرب کے سیاہ کرتوت

کوئی بھی منصف مزاج انسان سعودی عرب کے اس کردار کو سراہے گا یا ان سیاہ کرتوتوں کی مذمت کرکے اس سے دوری اختیار کرے گا۔ یقینا آزاد انسان سعودی کردار کی مخالفت و مذمت ہی کریں گے لیکن پاکستان سے تعلق رکھنے والے زرخرید ناصبی ملاؤں کا پیٹ کا مسئلہ انہیں حق قبول کرنے نہیں دیتا۔

یقینا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کافی عرصے بعد بالآخر قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ لیکن وہ اپنے موقف پر کتنا عرصہ قائم رہیں گے!؟۔ قوم کو مکمل خوشی تو اس وقت ہوگی جب پاکستان حکومت نظریہ پاکستان اور بانیان پاکستان کی خواہشات کے مطابق فلسطین و کشمیر کی آزادی کی جائز قانونی قومی مزاحمتی تحریک کی کھل کر حمایت کرے گی۔

ایم ایس مہدی برائے شیعیت نیوز اسپیشل

سعودی عرب کی خدمات برائے پاکستان و عالم اسلام

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close