اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

خلفائے راشدین اور امہات المومنین کا گستاخ کون

خلفائے راشدین اور امہات المومنین کا گستاخ کون

خلفائے راشدین اور امہات المومنین کا گستاخ کون
پاکستان کو تکفیری و ناصبی انتہاپسند متعصب دہشت گردوں نے یرغمال بنارکھا ہے۔ اور یہ ٹولہ بعض مقدسات کی آڑمیں چھپنے کی کوشش کرتا آرہا ہے۔ ترک خلافت عثمانیہ کے خلاف برطانوی سامراج کے سہولت کار بننے والے نجد کے آل سعود اور آل شیخ کے حکم پر اور انہی کی قیادت میں حجاز مقدس بشمول مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر جنگ مسلط کی گئی۔

صحابہ کے مزارات اور قبور مقدسہ کی بے حرمتی

نجدی ناصبی وہابی لشکر نے مکہ و مدینہ کے تاریخی قبرستانوں میں خاتم الانبیاء حضرت محمد ص کے بزرگا ن، اہل بیت نبوۃ ﷺ، ازواج مطہرات (امہات المومنین) اور صحابہ کے مزارات اور قبور مقدسہ کی بے حرمتی کی۔ لیکن آل سعود اور آل شیخ کو آج تک پاکستان میں مقدس بناکر پیش کیا جاتا رہا۔ پاکستان بننے سے اب تک کی تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہر مسلمان پاکستانی کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔

حجاز مقدس (مکہ و مدینہ) کی اسلامی مقدسات کی بے حرمتی

یہ تاریخ ہرمنصف مزاج عادل انسان کے سامنے یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ حجاز مقدس (مکہ و مدینہ) کی اسلامی مقدسات کی بے حرمتی، گستاخی و توہین پر آج تک بہت سوں کی زبانیں چپ ہیں۔ لیکن اسلامی مقدسات کی توہین و گستاخی و بے حرمتی کرنے والی سعودی وہابی بادشاہت کے جرائم اور شریک جرم متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے پر عرب اسلامی عوام کے غم و غصے سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان میں انکے زرخرید فتنہ و فساد پھیلارہے ہیں۔

خلیفہ راشد کے باغی طاغی طلقاء ابن طلقاء

اور اب خلیفہ راشد کے باغی طاغی طلقاء ابن طلقاء کو مقدس بنانے کی سازش کے ساتھ نیا فتنہ پھیلارہے ہیں۔ یعنی بنوامیہ کی اسلام دشمن بادشاہت کو مقدس بنایا جارہا ہے۔ اس لیے عامۃ الناس کے علم میں اضافے کے لیے یہ تحریر پیش خدمت ہے۔

خلفائے راشدین اور امہات المومنین کا گستاخ کون ہے

خلفائے راشدین اور امہات المومنین کا گستاخ کون ہے، اگر اسلام کی وہ تاریخ پڑھ لی جائے جو اہل سنت سنی مورخین و محدثین نے محفوظ کی تب بھی کم سے کم بنو امیہ کی ملوکیت کا دفاع کرنے والے فسادی ناصبی مولویوں سے نمٹنا بنیادی طور پر اہل سنت عوام اور علمائے کرام کا بنیادی فرض ہے۔

خلافت فقط تیس سال

سب سے پہلے اہل سنت اپنے تاریخی منابع سے رجوع کریں تاکہ انکو معلوم ہو کہ انکے ہاں خلافت سے متعلق کیا موقف ہے؟ سنیوں میں ایک طبقہ کہتا ہے کہ سنی کتب تاریخ و احادیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خلافت فقط تیس سال تک رہے گی، اسکے بعد سلطنت ہوجائے گی۔ امام احمد بن حنبل نے حضرت سفینہ سے یہ روایت نقل کی جبکہ تاریخ الخلفاء میں اہل سنت عالم علامہ جلال الدین سیوطی نے مدت خلافت اسلامیہ کے حوالے سے اس حدیث کے لیے لکھا کہ روایت کیا اس کا اصحاب، سنن نے)۔

 اسلام کی ابتداء نبوت و رحمت

علامہ سیوطی کے مطابق علماء کہتے ہیں کہ خلفاء اربعہ اور امام حسن ؑ کے زمانے تک یہ تیس سال پورے ہوگئے۔ بزار بسند حضرت ابوعبیدہ بن جراح بیان کرتے ہیں کہ نبی ص نے فرمایا کہ تمہارے دین اسلام کی ابتداء نبوت و رحمت سے ہوئی، پھر خلافت و رحمت ہوجائے گی اور اسکے بعد بادشاہت اور جبر و ظلم آجائے گا۔

حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا

عبدالرحمٰن بن ابزی کے مطابق حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ یہ خلافت سب سے پہلے بدر والے مسلمانوں کا حق ہے، جب تک ان میں سے ایک بھی باقی رہے۔ پھر احد والے اسی طرح درجہ بدرجہ۔ مگر مکہ میں مسلمان ہونے والوں ان لوگوں کا کوئی حق نہیں جو فتح مکہ میں آزاد کیے گئے تھے۔

یہ تاریخ جنہوں نے تحریر کی

یہ تاریخ جنہوں نے تحریر کی یا احادیث کی جو کتب تالیف کیں، یہ کوئی آج کے دور کے علماء نہیں تھے۔ نہ ہی انکا تعلق پاکستان و ہندستان سے تھا۔ سیرت ابن اسحاق و سیرت ابن ہشام اور طبقات الکبریٰ (طبقات ابن سعد) یہ تو آج سے کم سے کم بارہ سو سال یعنی بارہ صدیاں پہلے کے دور کی کتب ہیں۔ امام محمد بن جریر طبری کا انتقال تو گیارہ سوسال یعنی گیارہ صدیاں قبل ہوچکا۔ البدایہ و النہایۃ کے مصنف ابن کثیر کی وفات کو پونے سات سوبرس بیت چکے۔ حافظ جلال االدین عبدالرحمان بن ابوبکر السیوطی کی رحلت کو پانچ صدیوں سے زائد کا عرصہ گذرچکا ہے۔

کم سے کم اہل سنت اپنے بزرگان کا لکھا اور کہا تو مان لیں

اسی طرح صحاح ستہ کی کتب کے مصنفین کا معاملہ بھی تیسری صدی ہجری سے شروع ہوا تھا۔ یہ مورخ اور محدث شیعہ نہیں تھے۔ اس لیے کم سے کم اہل سنت اپنے بزرگان کا لکھا اور کہا تو مان لیں۔ جب حضرت عمر بن خطاب نے واضح کردیا کہ فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کرنے والوں کا خلافت (یعنی مسلمانوں پر حکمران بننے کا) پر کوئی حق نہیں۔ تاریخی حقائق کی بنیاد پر جماعت اسلامی پاکستان کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے معاویہ بن ابوسفیان کو عالم اسلام میں ملوکیت (یعنی بادشاہت) کا بانی قراردیا۔ ابوالکلام آزاد بھی بنوامیہ کی حکومت کو ملوکیت کہا کرتے تھے۔

طلقاء کے خاندان

دوسری بات یہ کہ معاویہ اور انکے والد ابوسفیان طلقاء کے خاندان میں سے تھے اور مدینہ منورہ سمیت بلاد اسلامی میں بزرگ صحابہ کرام اس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے کہ طلقاء کو ان بزرگ صحابہ پر فوقیت دی جائے۔ سید مودودی صاحب دیوبندی عالم تھے، انہوں نے خلافت و ملوکیت میں بنوامیہ کی لاقانونیت پر شدید تنقید بھی کی ہے۔

حضرت ابوبکرکی حکومت کوع زکات کی ادائیگی نہ دینے والےمرتد!!۔

تیسری بات یہ کہ اہل سنت جس خلافت کو خلافت راشدہ مانتے ہیں اس میں مولاامیر المومنین حضرت علی ؑ کی حکمرانی کا دور بھی شامل کرتے ہیں۔ اور اہل سنت تاریخ میں حضرت ابوبکرکی حکومت کوع زکات کی ادائیگی نہ دینے والوں کو بھی مرتد قرار دیا گیا تو حضرت علی ؑ کی حکومت کے خلاف جنگیں لڑنے والا معاویہ کیسے مقدس بن سکتا ہے؟

خال المومنین حضرت محمد بن ابوبکر

چوتھی بات یہ کہ ام المومنین بی بی عائشہ بنت ابوبکر ہر نماز کے بعد معاویہ بن ابوسفیان اور عمرو بن العاص کے لیے بددعا کیا کرتیں تھیں۔ معاویہ بن ابوسفیان اور عمروبن العاص کے حکم پر حضرت ابوبکر کے بیٹے اور بی بی عائشہ ام المومنین کے بھائی یعنی خال المومنین حضرت محمد بن ابوبکر کو مصر میں قتل کیا گیا۔ انکی لاش کو گدھے کی کھال میں لپیٹ کر جلادیا۔ حضرت بی بی عائشہ ام المومنین نے اپنے بھائی حضرت محمد بن ابوبکر سے متعلق یہ خبر سنی تو شدید جزع فزع بھی کی۔ ( تاریخ طبری جلد سوم اور البدایہ و النہایہ تاریخ ابن کثیر جلد ہفتم)۔ یادرہے کہ امیرالمومنین حضرت علی ؑ نے حضرت محمد بن ابوبکر کو مصر کا گورنر (عامل) مقرر کیا تھا۔

صحابی کے قتل پر خوشی کا اظہار

پانچویں بات یہ ہے کہ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان نے حضرت امیر المومنین علی ؑ بن ابی طالب ؑ کے ایک صحابی کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خطاب میں کہا تھا کہ علی کے دو داہنے ہاتھ تھے جس میں سے ایک ہاتھ صفین میں کاٹ دیا گیا تھا جوکہ حضرت عمار ؓ کی شہادت کی طرف اشار تھا۔ اور جنگ صفین کے موقع پر ہی حضرت اویس قرنی ؓ بھی شہید ہوئے تھے۔

حضرت عمارؓ بن یاسر

طبقات ابن سعد سمیت اہل سنت کے تاریخی منابع میں یہ حدیث تواتر کے ساتھ نقل کی گئی ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے جنگ خندق ہی میں حضرت عمارؓ بن یاسر ؓ کے سر پر دست شفقت پھیر کر کہا تھا کہ ایک باغی (شرپسند) ٹولہ تجھے (یعنی عمارؓ بن یاسرؓ) کو قتل کرے گا۔ اور جب جنگ صفین میں حضرت عمار یاسر شہید ہوئے تو صحابہ کو پتہ چل گیا کہ حضرت علی حق پر ہیں اور معاویہ باطل ہے۔

Pakistani police files case against 3-year-old Shia child for mourning
تاریخ طبری جلد سوم فاجر ابن فاجر معاویہ بن ابوسفیان

چھٹی بات یہ ہے کہ تاریخ طبری جلد سوم میں لکھا ہے کہ خال المومنین حضرت محمد بن ابوبکر ؓ کے ایک خط کے جواب میں حضرت علی امیرالمومنین ؑ نے ایک خط میں یہ جملہ بھی لکھا تھا: میں نے فاجر ابن فاجر معاویہ بن ابوسفیان اور فاجر ابن الکافر عمروبن العاص کا خط پڑھا، یہ دونوں خدا کی نافرمانی کو پسند کرتے ہیں۔

بقول دیوبندی عالم سید ابوالاعلیٰ مودودی۔۔

مذکورہ بالا کتب میں موجود ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان نے مولاامیر المومنین پر خود بھی سب و شتم کیا اور اسکے حکم پر اسکے مقرر کردہ گورنر بھی منبروں سے یہ کام کرتے تھے۔ بقول دیوبندی عالم سید ابوالاعلیٰ مودودی۔۔حتیٰ کہ مسجد نبوی میں منبر رسول ﷺ پر عین روضہ نبوی ﷺ کے سامنے حضور کے محبوب ترین عزیز (یعنی علی ؑ) کو گالیاں دیں جاتیں تھیں اور حضرت علی ؑ کی اولاد اور انکے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے۔ (خلافت و ملوکیت از مودودی)۔

ابوسفیان کی بیوی اور معاویہ کی ماں ہندہ

تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایۃ) جلد ہشتم میں تحریر ہے کہ معاویہ نے حضرت علی ؑکو خط لکھ کر اپنے اور اپنے باپ کے مناقب لکھے کہ انکا باپ ابوسفیان زمانہ جاہلیت میں سردار تھا اور وہ خود یعنی معاویہ اسلام میں بادشاہ بنا اور رسول اکرم ص کا برادر نسبتی (مومنین کا ماموں) اورکاتب وحی۔ اس پر مولاامیرالمومنین حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ جگر کھانے والی کا بیٹا مناقب کے ذریعے فخر کرتا ہے۔ (ابوسفیان کی بیوی اور معاویہ کی ماں ہندہ نے رسول اکرم ص اور حضرت علی ؑ کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو حبشی غلام کے ذریعے ایک جنگ میں شہید کرایا اور بعدازاں ان کا جگر کھایا تھا)۔

حضرت علی ؑ نے معاویہ کو جواب لکھا (البدایہ والنہایۃ جلد ہشتم)۔

حضرت علی ؑ نے معاویہ کو جواب لکھا کہ اللہ کے نبی محمد ﷺ میرے بھائی اور میرے سسر ہیں۔ حضرت حمزہ سیدالشہداءؓ میرے چچا ہیں۔ اور جعفر جو صبح و شام کرتا ہے اس حال میں کہ ملائکہ کے ساتھ اڑرہا ہوتا ہے وہ میری والدہ کے بیٹے ہیں۔ اور محمد ﷺ کی بیٹی میرا مسکن اور میری زوجہ ہیں۔ انکا گوشت میرے خون اور گوشت کے ساتھ ملا ہوا ہے اور احمد ﷺ کے دونوں نواسے میرے بیٹے ہیں تو پھرکون ہے تم میں سے جس کا نصیب میرے نصیب جیسا ہے!؟۔ میں نے تم سے سبقت کی قبول اسلام میں۔ روای بیان کرتا ہے کہ معاویہ فرمانے لگے اس رسالہ کو چھپاکر رکھو، مبادا اہل شام اسکو پڑھ لیں اور پھر علی بن ابی طالب کی طرف انکا میلان ہوجائے۔ (البدایہ والنہایۃ جلد ہشتم)۔

حضرت حجر بن عدی سمیت بہت سے نام ور صحابہ رسول ﷺ کا قتل

حضرت حجر بن عدی سمیت بہت سے نام ور صحابہ رسول ﷺ کا قتل بھی معاویہ کے حکم پر ہوا۔ خال المومنین حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر بھی معاویہ کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ بعض روایات میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے کہ حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر کی رحلت پہلے ہوچکی تھی۔ جبکہ اہل سنت عالم ابوعمریوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر قرطبی جو کہ ابن عبدالبر کے نام سے زیادہ مشہور ہیں انہوں نے الاستیعاب میں معاویہ بن ابوسفیان کی جانب سے اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کے لیے پیشگی بیعت لینے کے لیے حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر کو ایک لاکھ درہم دینے کی پیشکش کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ ابن عبدالبر چوتھی صدی ہجری کے ساتویں عشرے میں پیدا ہوئے اورانکی رحلت پانچویں صدی میں سال 463 ہجری قمری میں ہوئی۔

حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر خال المومنین

اہل سنت کتب تاریخ کے مطابق معاویہ بن ابوسفیان خود بھی تلوار کے زور پر حاکم بنا تھا۔ اور حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر خال المومنین نے یزید کو ولی عہد بنائے جانے کے فیصلے کی کھل کراور شدید مخالفت کی تھی۔ جس کی وجہ سے اس وقت مدینہ کے گورنر مروان بن الحکم جو حضرت عثمان کے داماد بھی تھے، نے انکو گرفتار کرکے کی کوشش کی تھی لیکن عبدالرحمان نے اپنی بہن بی بی عائشہ ام المومنین کے حجرے میں پناہ لے کر جان بچائی تھی۔

معاویہ نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید کو مسلط کردیا تھا

معاویہ بن ابوسفیان نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید کو مسلط کردیا تھا۔ اور اہل سنت علماء کے نزدیک یہ تواتر سے ثابت ہے کہ یزید قتل امام حسین علیہ السلام میں براہ راست ملوث بھی تھا، اس پر خوش بھی ہوا تھا اور اہل بیت نبوۃ ﷺ کی اہانت بھی کی تھی۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ عبیداللہ ابن زیاد نے بھی کہا تھا کہ یزید بن معاویہ نے اسے حکم دیا تھا کہ حسینؑ بن علی ؑکو قتل کردے اور اگر قتل نہیں کیا تو یزید نے دھمکی دی تھی کہ وہ ابن زیاد کو قتل کردے گا۔

مدینہ منورہ کی بے حرمتی

مدینہ منورہ کی بے حرمتی کا سلسلہ بھی معاویہ و بنو امیہ کا ہی شروع کردہ تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کا سبب بھی طلقاء بنوامیہ ہی تھے اور خاص طور پر مروان بن الحکم جو حضرت عثمان کا داماد تھا۔ سید مودودی نے خلافت و ملوکیت میں حضرت عثمان کے دور کے حالات اور بزرگ صحابہ اور عامۃ المسلمین کی ناراضگی کے اسباب بیان کیے ہیں۔

حضرت علی خود بھی محاصرے میں تھے

حضرت علی ؑ کا حضرت عثمان کے قتل سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ خود بھی محاصرے میں تھے۔ اسی طرح حضرت امام حسن ؑ و حضرت امام حسین ؑ کا بھی اس قتل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اور جب ان تین کا کوئی تعلق نہیں تھا تو جو ان تین کے دوست یا چاہنے والے تھے، ان پر بھی قتل میں ملوث ہونے کا الزام جھوٹا ہے۔

حضرت عثمان کے قتل کے بنوامیہ  طاقتور تھے

حضرت عثمان بن عفان کے قتل کے وقت عالم اسلام میں بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے افراد طاقتور تھے اور اہم عہدوں پر تھے۔ جس معاویہ بن ابوسفیان نے حضرت علی ؑ کے دور خلافت میں بغاوت اور سرکشی کی، وہ حضرت عثمان کے محاصرے کے وقت بھی شام کا گورنر تھا۔ اگر وہ اس وقت حضرت عثمان کو محاصرے سے نکالنے آتا تو بچاسکتا تھا۔ حضرت علی ؑ اور انکے شیعوں کے پاس اتنی قوت اور طاقت ہوتی جتنی بنوامیہ کے پاس تھی، تو بھی حضرت عثمان بچالیے جاتے لیکن افسوس کہ بنوامیہ نے آل ابو سفیان اور مروان کو بچایا اور حضرت عثمان کو قتل ہونے دیا۔ سوال یہ ہے کہ مروان بن الحکم اس محاصرے سے کیسے فرار ہوگیا!؟۔

حضرت عثمان کا قتل

حضرت عثمان کا قتل ہی در حقیقت بنوامیہ کی ملوکیت کو مستحکم کرنے کی ایک منظم سازش تھی اور وہ کامیاب بھی ہوئی۔ یاد رہے کہ عالم اسلام میں شیعہ مسلمانوں کی تعداد غیر شیعوں کی نسبت کم ہی رہی ہے۔ اس لیے کسی بھی معاملے میں شیعہ مسلمانوں پر الزام لگادینا، عدل نہیں بلکہ سراسر ظلم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل بیت نبوۃ ﷺ کا تعلق پوری امت سے ہے یاامت کے محض ایک حصے یعنی شیعوں سے ہے؟ .

امت کہاں تھی؟ اکثریت کہاں تھی

اگر اہل بیت نبوۃ ﷺ پر ظلم و ستم ہوا تو سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ امت جو خود کو اکثریت کہتی ہے وہ اس وقت کہاں مرگئے تھے۔ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت، حضرت علی ؑ اور امام حسن ع کی خلافت کے دور میں اور سانحہ کربلا کے وقت باقی امت کہاں تھی؟ وہ اکثریت کہاں تھی جس کثرت تعداد کی بنیاد پر ایک مسلک خود کو حق اور کم تعداد والوں کو باطل قرار دیتا آرہا ہے؟

حضرت ابوطالب مدافع رسالت محمدی ﷺ

تکفیری فتنہ اور پاکستان کے مسلمان

 کم سے کم تاریخ تو پڑھ لیں

میرا خیال ہے کہ کل تک جو کچھ ہوچکا، اس سے سبق سیکھیں۔ اور آج ان لا یعنی کج بحثی میں وقت ضایع نہ کریں۔ فتنہ و فساد سے عالم اسلام اور پاکستان کو اور خود اپنے آپکو نقصان میں نہ ڈالیں۔ کم سے کم تاریخ تو پڑھ لیں کہ اہل سنت کے نزدیک خلافت راشدہ امام حسن ع کے دور خلافت کے اختتام پر ختم ہوچکی۔

خال المومنین اور صحابہ رسول اکرم ص کا قاتل

اب معاویہ بن ابوسفیان جیسے بادشاہ کو مقدس بنانے کا مقصد سوائے اسکے کیا ہے کہ آل سعود، آل نھیان اور آل خلیفہ جیسوں کی غیر نمائندہ استبدادیت کے حق میں کھوکھلی دلیل قائم کی جاسکے۔

ام المومنین بی بی عائشہ

معاویہ خود گستاخ ہے۔ خال المومنین اور صحابہ رسول اکرم ص کا قاتل حکمران ہے۔ ام المومنین بی بی عائشہ نے خال المومنین کے سفاکانہ قتل کے بعد سے ہر نماز کے بعد معاویہ بن ابوسفیان کو باقاعدہ بددعائیں دیں ہیں۔

خلافت راشدہ کا باغی

اور آپ جس خلافت کو خلافت راشدہ کہتے ہیں ان میں سے دو کا باغی تھا اور تیسرے کے ساتھ بھی دغا کی کہ انکی مدد کو بھی نہیں آیا۔ اور اہل مدینہ سے متعلق جو احادیث سنی علماء نے بیان کیں اور آیات قرآنی کی روشنی میں بھی اس نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دی۔ اہل مدینہ کو بھی اذیت دی۔ آیات اور احادیث نبویﷺ کی روشنی میں ایسے شخص پر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بھی لعنت ہے۔

لعنت کو گالی کہنا اللہ اور رسول ص کی توہین ہے

ام المومنین بی بی عائشہ کی بددعا

اب کم سے کم ام المومنین بی بی عائشہ کی بددعا کے بعد تو اسکو لعنتی مان لیں۔ ورنہ خلیفہ راشدکے باغی ہونے کی وجہ سے مان لیں اور نہیں مانیں گے تو پچھلے تین خلفاء کے باغی بھی مقدس سمجھیں اور انکے خلاف جو کچھ آپ نے لکھا یا بولا ہے اس پر آپ پر بھی گستاخی اور توہین صحابہ کا جرم ثابت ہے۔

خلفائے راشدین اور امہات المومنین کا گستاخ کون ہے

اور حضرت علی کی خلافت راشدہ کے باغی کا دفاع کرنا بھی خلافت راشدہ، داماد رسولﷺ، صحابی اور اہل بیت نبوۃ ﷺ کی شان میں گستاخی اور توہین ہی ہے۔ اس لیے جو بھی ایسا کررہے ہیں، ان کو گرفتار کرکے توہین رسالت، توہین اہل بیت اور توہین صحابہ و خلافت راشدہ کے جرم میں سزاسدی جانی چاہیے۔ ورنہ یہ مان لیا جائے کہ حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حجر بن عدی جیسے صالح و متقی صحابہ کے قاتلوں کا اصل سردارہونے کی وجہ سے بھی لعنتی ہے۔

تاریخ طبری جلد سوم میں لکھا ہے

تاریخ طبری جلد سوم میں لکھا ہے کہ خال المومنین حضرت محمد بن ابوبکر ؓ کے ایک خط کے جواب میں حضرت علی امیرالمومنین ؑ نے ایک خط میں یہ جملہ بھی لکھا تھا: ”میں نے فاجر ابن فاجر معاویہ بن ابوسفیان اور فاجر ابن الکافر عمروبن العاص کا خط پڑھا، یہ دونوں خدا کی نافرمانی کو پسند کرتے ہیں۔“

مولوی صاحبان آپ سب سے سوال یہ ہے کہ

مولوی صاحبان آپ سب سے سوال یہ ہے کہ کیا اللہ، اللہ کے رسول ﷺ اور اول مسلم شہہ مردان علی ؑ، ام المومنین، خال المومنین، صحابہ کرام یعنی ان سبھی کی معاویہ مخالف باتیں مانیں یا آپ جیسے سرکش مولویوں کی من مانیوں کو مانیں؟ آپ تو وہ ہیں کہ جنہوں نے لفظ لعنت کو گالی کہہ کر اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی کھلی توہین کی ہے۔ سزا تو لعنت اللہ علی الکاذبین مولویوں کو دی جانی چاہیے جو قرآن کو نہیں مان رہے اور نہ ہی سنت کو۔ اور الٹا یزید بن معاویہ کا دفاع کررہے ہیں۔ حیف ہے۔

غلام حسین برائے شیعیت نیوز اسپیشل

خلفائے راشدین اور امہات المومنین کا گستاخ کون

Police books a Sunni mystic for cursing Umar Ibn Saad
متحدہ عرب امارات و اسرائیل معاہدے کے بعد کا منظر نامہ
خاتم الانبیاء کے سرپرست اور مدافع حضرت ابوطالبؑ

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close