پاکستان

اے پی سی، 7 دن کی مہلت، ڈیڈ لائن میں توسیع، شہباز، رانا ثناء 7 جنوری تک مستعفی ہوں

شیعیت نیوز:  سانحہ ماڈل ٹائون کے حوالے سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس نے اپنے اعلامیہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون کے استعفوں کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے انہیں 7دن کی مہلت دیدی اور کہا ہے کہ شہباز شریف اور رانا ثناء 7جنوری تک مستعفی ہوں، ن لیگ اقتدار میں رہنے کا جواز کھو چکی، معاملے کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ مستعفی نہ ہونے کی صورت میں اے پی سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی8 جنوری کو لائحہ عمل کا اعلان کریگی، تمام صوبائی اسمبلیاں اور سینیٹ وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون پنجاب کے استعفوں کیلئے قرارداد منظور کروائیں،سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے،ختم نبوت قانون میں ترمیم کے بعد ن لیگ حکومت کا جواز کھو بیٹھی ہے۔اعلامیہ میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹائون کا ازخود نوٹس لیکر غیر جانبدار کمیشن بنائے، آل پارٹیز کانفرنس کانفرنس گزشتہ روز یہاں منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں ہوئی جس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شریف برادران کو کوئی بھی ماورائے آئین ریلیف دیا جانا قبول نہیں ۔شاہ محمود قریشی اور قمر زماں کائرہ نے اے پی سی کے اختتام پر جاری ہونے والا دس نکات پر مشتمل اعلامیہ پڑھ کر سنایا ۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ختم نبوت قانون میں تبدیلی کی مذمت کرتی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے۔ابتدائی پانچ نکات شاہ محمود قریشی نے پڑھے۔ انھوں نے کہا کہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرکے آئین پر حملہ کیا گیا اسکے ماسٹر مائنڈ کو تاحال سامنے نہیں لایا گیا۔ختم نبوت قانون میں تبدیلی کےبعدن لیگ حکومت کا جواز کھو بیٹھی ہے، ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرنےوالوں کو سزا ملنی چاہے،سانحہ ماڈل ٹاؤن کےمتاثرین کیلئےجدوجہد کرنا سب کی ذمے داری ہے۔باقی پانچ نکات پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زماں کائرہ نے پڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجفی کمیشن نےسانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف راناثناء اللہ کوذمہ دارٹھہرایا، اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ شہبازشریف اور راناثناء اللہ 7جنوری تک مستعفی ہو جائیں۔ اعلامیہ میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹائون پر سوموٹو ایکشن لے کر غیرجانبدارکمیشن کی تشکیل دے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام صوبائی اسمبلیاں اور سینیٹ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث ہونے پر شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے استعفوں کی قرارداد منظور کروائیں۔ختم بنوت ﷺ کے حلف نامے میں تبدیلی اور قوانین کو ختم کرنا کروڑوں مسلمانوں کی اساس پر حملہ ہے، اس قانونی دہشت گردی میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) براہ راست ملوث ہیں، ایمان کی بنیادی اساس پر حملے کے بعد (ن) لیگ اقتدار پر مسلط رہنے کا جواز کھو چکی ہے۔اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے لہٰذا یہ لوگ 7 جنوری سے پہلے مستعفی ہو جائیں۔ اگر یہ لوگ 7 جنوری تک مستعفی نہ ہوئے تو 8 جنوری کو اے پی سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور قومی دولت لوٹنے والے شریف خاندان کو کسی قسم کا این آر او نہ دیا جائے اور اگر کوئی ماورائے قانون ریلیف دیا گیا تو قوم اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ کانفرنس میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، ایم کیوایم اور پی ایس پی اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنمائوں سمیت اپوزیشن قیادت نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ماڈل ٹائون کے بے گناہ لوگوں کے قصاص کے مطالبے میں اب تمام جماعتیں شامل ہوگی ہیں، سات روز میں انہوں نے استعفی نہ دیا تو احتجاج کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے، سیاسی جماعتوں کو 17 جون کے خون شہادت نے اکٹھا کیا، اداروں کو مسمار نہیں ہونے دیں گے، نواز شریف چھانگامانگا کلچر کے بانی ہیں،یہ ہے آپ کا نظریہ،نواز شریف کاکردار کہاں سے جمہوری ہے،سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ پرمتفقہ لائحہ عمل طے ہوگا، معاملہ اب صرف میرے ہاتھ میں نہیں رہا،قومی قیادت نے لے لیا،اگر دھرنا ہوگا تو آپ کے اقتدار کو مرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جمہوریت کی جڑیں کاٹیں،شریف برادران نے سیاست میں لوگوں کوخریدنے کا کلچر متعارف کرایا۔ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ میں نے 2014 میں تحریک شروع کی،پرامن تحریک جو شروع نہیں ہوئی تھی اسے خطرہ سمجھاگیا،تحریک شروع نہیں ہوئی تھی کہ رات کو آپریشن شروع کردیا گیا،تجاوزات ہٹانے کے نام پر فورس کے ہزاروں ارکان کو بھیجا گیا ،آپ نے ماڈل ٹائون میں خون کی ندیاں بہائیں شہیدوں کے خون نے پاناما کی شکل میں نوازشریف کاچہرہ بے نقاب کیا۔ سانحہ ماڈل ٹائون اب عوامی تحریک کا مقدمہ نہیں اس پر اب مشترکہ اعلان اور لائحہ عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاوئون اور مجھے کیوں نکالا آج کی صورتحال سے جڑے ہوئے ہیں، شہباز شریف،رانا ثناء اللہ و دیگر نہیں بچیں گے ،سیاسی جماعتیں اداروں اورملک دشمنوں کیخلاف اکٹھی ہیں،باہمی اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں آج ایک چھت تلے جمع ہیں،سیاسی جماعتوں کو انسانیت کے درد نے جمع کیا۔اے پی سی سے خطاب میں ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ1988 کے انتخابات میں غیر جمہوری ناخداوں کی سرپرستی میں الیکشن لڑا، نوا زشریف نے ضیاء دورمیں ارکان اسمبلی کوکھلی رشوت دینے کا آغاز کیا،سندھ ،کے پی، بلوچستان میں کیش دیکردھڑے خریدے گئے۔طاہر القادری نے کہا کہ شریف برادران کہتے ہیں اے پی سی میں شامل پارٹیاں کسی کا کندھا استعمال کررہی ہیں، وہ بتائیں کہ سعودی عرب میں کون کس کا کندھا استعمال کررہا ہے۔انہو ں نے اے پی سی میں شریک سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اظہارتشکرکیا اور کہا کہ اے پی سی میں 40سے زائد سیاسی جماعتوں نے شرکت کی،جن میں پیپلز پارٹی کا وفد شریک ہے جس میں سینیٹر رحمان ملک، قمرزمان کائرہ، میاں منظور احمد وٹو اور لطیف کھوسہ ، پاکستان تحریک انصاف کے وفد میں شاہ محمود قریشی ،جہانگیر ترین، شفقت محمود اور چوہدری سرور ، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان اور ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری،عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید کا ایک رکنی وفد ، مسلم لیگ ق کے چوہدری برادران، کامل علی آغا اور طارق بشیر چیمہ ، جماعت اسلامی کی طرف سے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں وفد ا،ایم ڈبلیو ایم کے سید اسد عباس نقوی وفد، چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال کی سربراہی میں سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر صغیر، وائس چیئرمین وسیم آفتاب اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق نے بھی شرکت کی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close