مشرق وسطی

آل خلیفہ حکومت سے بحرینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ، لیبیا میں ترکی کا ڈرون تباہ

شیعت نیوز : بحرین کے لاء (قانون) سے متعلق 19 گروہوں کے عالمی اتحاد نے آل خلیفہ حکومت سے آزادی بیان کے جرم میں گرفتار کرنے والوں کو رہا نہ کرنے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کے باوجود انھیں رہا نہیں کا گیا ہے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق لاء (قانون) کے 19گروہوں نے پیر کے روز مشترکہ بیان میں بحرین کے حکام سے مطالبہ کیا کہ سیاسی مخالفین کو جنہیں اپنے حق و حقوق ، پر امن احتجاج اور آزادی بیان کے جرم میں گرفتارکیا گیا ہے انہیں کورونا کی وبا پھیلنے کی وجہ سے فورا رہا کر دینا چاہئیے۔

اس بیان میں آیا ہے کہ بہت سے حکومت مخالف رہنما اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اس وقت جیلوں میں ہیں جن کی جسمانی صورتحال خراب ہے اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اگر وہ کورونا میں مبتلا ہو گئے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : عرب ممالک میں کورونا وائرس کے حملے میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ

واضح رہے کہ آل خلیفہ حکومت کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی پر امن عوامی تحریک کے کئی رہنماوں کو حکومت نے گرفتار کیا ہے۔

دوسری طرف خلیفہ حفتر کی نیشنل آرمی نامی ملیشیا نے پیر کی رات لیبیا کے شمال میں ترکی کے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا۔

رپورٹ کے مطابق خلیفہ حفتر کی نیشنل آرمی نامی ملیشیا نے اعلان کیا کہ ترکی کے ایک ڈرون کو مصراتہ شہر کے مشرق میں سرنگوں کردیا ہے۔

ترکی نے حال ہی میں لیبیا خلیفہ حفتر کے مقابلے میں فائز السراج کی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔

خلیفہ حفتر کی فوج نے جسے سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بعض مغربی ملکوں کی حمایت حاصل ہے لیبیا کے مشرقی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور پچھلے چند مہینے سے اس نے لیبیا کے شمالی علاقوں کی جانب بھی پیشقدمی شروع کردی ہے۔

خلیفہ حفتر کی زیر کمان ملیشیا نے اپریل دوہزار انیس میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش شروع کی تھی جو تا حال ناکام رہی ہے۔

گذشتہ اپریل میں طرابلس پر خلیفہ حفتر کی فوج کے حملے کے بعد سے اب تک ایک ہزار ایک سو سے زائد افراد ہلاک اور پانچ ہزار 700 زخمی ہوچکے ہیں ۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close