مقالہ جات

اب تیل لینے کون جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ || تحریر || حسین عابد

معیشت پر برے اثرات آج سے تقریبا دو دہائیاں پہلے ایران کے رہبر اعلیٰ نے ایرانی سرکار سے کہا تھا کہ وہ ملکی معیشت کے انحصار کو تیل پر سے جتنا ہوسکے کم کرتے جائیں اور ملکی معیشت کو مستقل حثیت دیں ۔

شیعت نیوز: کورونا وائرس تیل کی مارکیٹ کو تباہ کرنے کے بعد اب نت نئے ریکارڈ بنانے پر تلا ہوا ہے ، امریکی خام تیل فی بیرل قیمت صفر ڈالر سے بھی نیچے گر کر منفی میں چلی گئی۔سابق سعودی وزیر تیل احمد ذکی یامانی کا کہنا تھا پتھرکا دورپتھروں کی قلت کی وجہ سے ختم نہیں ہواکوئلے کادور ، کوئلے کی قلت کی وجہ سے ختم نہیں ہواتیل کا دور ختم ہوسکتا ہے ، اس لئے نہیں کہ تیل کی کمی ہوگی اوپیک نے روزانہ دس ملین بیرل خام تیل میں پیداوار کو کم کرنے پر اتفاق کیالیکن اس کے باوجود تیل کی مارکیٹ دھڑام سے گرگئی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس اور محکمہ صحت کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی ظلم ہے، کیپٹن (ر)شفیع

اب صورتحال یہ ہے کہ کوئی مفت بھی تیل خریدنے کے لئے تیار دیکھائی نہیں دیتا ،تکنیکی طور پر منفی قیمت کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ تیل بیچنے والا تاجر خریدار کو مفت تیل بھی دے یا پھر فی بیرل من مانی قیمت بھی ادا کرے تو منظور ہوگا کیونکہ تیل فراہم کرنے والے ممالک خاص کر طورپر امریکی خام آئل کی تمام ذخیرہ گاہیں اس وقت بالکل بھری پڑی ہیں اور مزید اسٹور کی جگہ نہیں بچی ہے ۔معیشت پر برے اثرات آج سے تقریبا دو دہائیاں پہلے ایران کے رہبر اعلیٰ نے ایرانی سرکار سے کہا تھا کہ وہ ملکی معیشت کے انحصار کوتیل پر سے جتنا ہوسکے کم کرتے جائیں اور ملکی معیشت کو مستقل حثیت دیں ۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کی زد پر سعودی عرب، سعودی نیشنل گارڈ نے کالونیوں کا کنٹرول سنبھال لیا

تیل فروخت کرنے والے اکثر ممالک کے پاس تیل سے ہٹ کر کوئی مستقل معیشت کا نظام نہیں ہے بلکہ ان کی معیشت کا زیادہ تر حصہ تو کہیں پر پوری معیشت کا انحصارتیل پر ہے ان ملکوں کے پاس موجود دولت کے اتار چڑھاو ٔ کا انحصار تیل کی قیمتوں کے ساتھ ہوتا رہتا ہے ،کیونکہ ان ملکوں میں تیل سے ہٹ کر کسی بھی قسم کا اقتصادی انفرااسٹریکچر نہیں پایا جاتا ،جو ملکی معیشت کو سہارا دیتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے شیعہ سنی جید علمائے کرام کے وفد کی ملاقات، لاک ڈاؤن پر مکمل تعاون کی یقین دہانی

اب موجودہ وبائی صورتحال میں جس انداز سےآئل کی مارکیٹ کریش کرگئی ہے اس سے ان ممالک کی کہیں پر75فیصد معیشت گرے گی تو کہیں پر50فیصد معیشت بھی دھڑام سے گرجائے گی ،کیونکہ ان ملکوں نے اپنی بجٹ میں تیل کی کم سے کم آمدنی کو 55ڈالر فی بیرل کے حساب سے رکھا ہے لہٰذا انہیں شدید خسارے کا سامنے رہے گا بطور مثال عراق نے اپنے بجٹ میں 133عرب ڈالر آئل کی آمدنی کو پیش نظر رکھا ہے ،کہ جس میں خسارے کا امکان 44ارب پیش نظر رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: القاعدہ برصغیر کراچی نیٹ ورک کے4 خطرناک تکفیری وہابی دہشت گرد گرفتار، بھاری اسلحہ برآمد

اب عراق کے بجٹ کا 92فیصد حصہ تیل پر انحصار کرتا ہے ،جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ موجودہ آئل کی مارکیٹ کو پیش نظڑ رکھتے ہوئے بجٹ میں خسارہ 33فیصد اور اضافہ ہوگا ،یوں مجموعی خسارہ 65ارب سے لیکر 73ارب تک جائے گا جو نصف خسارے سے بھی زیادہ ہے ۔یہ صورتحال ملک میں بدترین معیشتی مسائل کو جنم دے گی ،مہنگائی سے لیکر بے روزگاری کی شرح تک میں ہوشربا اضافہ ہوگا اور اسے کنٹرول کرنے کے لئے بیرونی مالی قرضوں کی ضروت پڑے گی ۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close