مشرق وسطی

ابو ظہبی اور تل ابیب تعلقات کا پہلا تحفہ، امریکی صیہونی وفد کو پیغام!

شیعیت نیوز : ابو ظہبی اور تل ابیب کے درمیان پہلی تجارتی پرواز کے آغاز کے ساتھ ہی ابوظہبی ایئرپورٹ کے راستے میں امریکی ریسٹورینٹ کے ایف سی میں ایک دھماکہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اسرائیلی وفد کے پہنچتے ہی دبئی اور ابوظہبی میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوگئے۔

اتوار کو کے ایف سی میں ہوئے اس دھماکے میں اس ریسٹورینٹ کے متعدد ملازم بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے اخبار البیان نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اس دھماکے سے ریسٹورینٹ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وطن عزیز میں سعودی عرب کی ایما پر فرقہ وارانہ خانہ جنگی کروانے کی سازش کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق اس دھماکے کے اسباب کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے اور فائر بریگیڈ کی ٹیم نے اس عمارت سے تمام افراد کو باہر نکالنا شروع کر دیا جس کے گراونڈ فلور پر یہ ریسٹورینٹ واقع تھا۔

عربی-21 ویب سائٹ نے بھی اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکہ ایسی حالت میں ہوا کہ اسرائیل سے متحدہ عرب امارات کے دار الحکومت ابوظہبی کے لئے پہلی باضابطہ پرواز پہنچی ہے اور مذکورہ طیارے میں امریکی اور اسرائیلی حکام کا ایک وفد بھی موجود ہے۔

واضح رہے کہ ابو ظہبی اور تل ابیب کے مابین ہونے والے امن معاہدے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد کمرشل پروازوں کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔

اس سلسلے میں پہلی پرواز اعلیٰ اسرائیلی اور امریکی حکام کو لے کر دبئی پہنچی۔

اس پہلی پرواز میں امریکی صدر کے داماد اور سینیئر مشیر جیراڈ کشنر، امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برین ، اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے مشیر بن شبات دبئی پہنچے۔

امارات کے وزیر برائے امور خارجہ انوار قرقاش اور اماراتی حکام نے پرواز میں آںے والے امریکی اور اسرائیلی نمائندوں کا استقبال کیا۔

متحدہ عرب امارات و اسرائیل کے درمیان تعلقات کی برقراری کے معاہدے کے بعد سے مسلسل پوری دنیا خاص طور پر عالم اسلام میں اس کی مخالفت ہو رہی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close