متفرقہ

داعش کے سرغنہ ابوبکر بغدادی کی موت کی خبر اور پس پردہ حقائق

امریکیوں کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ ابوبکر بغدادی کہیں زندہ حالت میں مزاحمتی فورسز کے ہتھے نہ چڑھ جائے

شیعت نیوز: ابوبکر بغدادی کی موت کی خبر اور پس پردہ حقائق، ایرانی قومی سلامتی کے نائب سربراہ کے زبانی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی سلامتی کمیشن اور سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے نائب چیئرمین اور قومی اسمبلی کے رکن محمد جواد جمالی نے کہا کہ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب دہشتگردوں کی مالی مدد کر رہا ہے اور امریکہ اسلامی مزاحمتی مرکز پر دباؤ ڈالنے کیلئے انہیں استعمال کر رہا ہے جبکہ ابوبکر بغدادی کی موت کی خبر ممکن ہے (میڈیا میں) صرف ایک شاک ویو پیدا کر سکے اور بس۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی سلامتی کمیشن اور سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے نائب چیئرمین اور قومی اسمبلی کے رکن محمد جواد جمالی نے امریکی حملے میں داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کی ہلاکت کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی تو بات یہ ہے کہ تمام امریکی حکام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ داعش کو خود امریکہ نے ہی خطے کے امن و امان کو تباہ کرنے، شام اور عراق جیسے ممالک کو تقسیم کرنے اور غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کو محفوظ بنانے کی خاطر تشکیل دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں داعش کی تشکیل سے انکا ایک مقصد خطے میں اپنی عسکری موجودگی کیلئے رائے عامہ ہموار کرنا بھی تھا لیکن جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی خبریں سن چکے ہیں، اس خبر کے بعد بھی اسکی تائید یا تکذیب کرنے والی مزید خبروں کا انتظار کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں: عراقی قوم کی بصیرت کا کڑا امتحان

محمد جواد جمالی نے کہا کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو امریکیوں نے خود شامی صوبے ادلب کے شمال مغرب میں رکھا ہوا تھا لیکن اب جبکہ شامی افواج اور عوامی مزاحمتی فورسز اس علاقے میں داخل ہو رہی ہیں، امریکیوں کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ ابوبکر بغدادی کہیں زندہ حالت میں مزاحمتی فورسز کے ہتھے نہ چڑھ جائے جبکہ ایسی صورت میں نہ صرف امریکیوں کے بھید کھل جاتے بلکہ امریکہ کی کوئی حیثیت بھی باقی نہ بچتی اور یہی وجہ تھی کہ امریکیوں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ترکی کیطرف سے شام کے شمالی علاقوں سے 8 امریکی ہیلی کاپٹرز بھیج کر یہ آپریشن انجام دیا۔

ایرانی قومی سلامتی کمیشن کے نائب چیئرمین، محمد جواد جمالی نے کہا کہ امریکی اس خبر سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں مثلا امریکی چاہتے ہیں کہ ان کو داعش کیخلاف جنگ میں ہیرو سمجھا جائے، اسی طرح وہ شام سے اپنی افواج نکالنے کا بہانہ بھی تلاش کر رہے ہیں تاکہ وہ کہہ سکیں کہ شام میں انکی موجودگی زیادہ ضروری نہیں کیونکہ اگر وہ شام میں موجود نہ ہوں تب بھی ابوبکر بغدادی کے خلاف آپریشن جیسے دوسرے آپریشنز انجام دے سکتے ہیں جبکہ سب سے زیادہ اہم امریکی انتخابات کی آمد آمد ہے جسکے حوالے سے خود ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اپنی تشہیری مہم میں ایسے کسی کارنامے کی ضرورت تھی اور اسی طرح ٹرمپ اپنے محاکمے اور گرتی عوامی حمایت پر بھی اس خبر کے ذریعے اثرانداز ہونے کی کوشش میں ہیں۔

جناب محمد جواد جمالی نے خطے اور دہشتگرد گروہ داعش کے مستقبل پر ابوبکر بغدادی کی ہلاکت کے اثر کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ابوبکر بغدادی جیسے افراد صرف ایک قسم کے مہرے کا کردار ادا کرتے ہیں جنکی موت کے بعد کوئی اور مہرہ انکی جگہ لے لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب دہشتگردوں کی مالی مدد کر رہا ہے اور امریکہ اسلامی مزاحمتی مرکز پر دباؤ ڈالنے کیلئے انہیں استعمال کر رہا ہے جبکہ ابوبکر بغدادی کی موت کی خبر ممکن ہے (میڈیا میں) صرف ایک شاک ویو پیدا کر سکے اور بس۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close