کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
سعودی عرب

ایران کے خلاف دہشت گردی سے متعلق سعودی عرب کا مضحکہ خیز دعوی

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے اپنی پریس کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سعودی عرب کے پرانے اور گھسے پٹے دعوؤں منجملہ دہشت گردی کی حمایت اور اور عرب ملکوں میں مداخلت کرنے جیسے دعوؤں کی تکرار کی ہے-

انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ریاض علاقے میں جنگ نہیں چاہتا- عادل الجبیر نے یہ بے بنیاد دعوی دوہراتے ہوئے کہ سعودی عرب ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، اپنے مکارانہ بیان میں کہا کہ سعودی عرب علاقائی اور عالمی حالات پر جو ایرانی حکومت اور علاقے میں بقول ان کے اس کی پراکسی قوتوں کی وجہ سے کشیدہ ہیں، گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے-

عادل الجبیر نے یہ بھی مضحکہ خیز دعوی کیا کہ ایران کا نظام علاقے میں امن و استحکام نہیں چاہتا- سعودی عرب کی اس تشہیراتی مہم کا ساتھ دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بھی دعوی کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے قریب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ناروے کے آئیل ٹینکروں پر تخریبی حملے کئے گئے ہیں-

سعودی عرب اور مغربی ذرائع ابلاغ نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ فجیرہ کے واقعے اور سعودی عرب کے اندر یمن کے سات ڈرون طیاروں کے حملے کو بہانہ بنا کر ایران کے خلاف ماحول تیار کریں-

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب اور ناروے کے ساتھ مل کر فجیرہ کے واقعے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکایت کی ہے اور اس سلسلے میں ایک مراسلہ ارسال کیا ہے-

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور تشہیراتی مہم یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کا تکون ایک بار پھر ایران کے خلاف نئے سینیریو کی تیاری میں لگ گیا ہے-

اس سینیریو میں بظاہر دو مقصد ان حکومتوں کے پیش نظر ہیں پہلا مقصد ایران کے خلاف سلامتی کونسل کے چینل سے اشتعال انگیز اقدامات کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے-

اس طرح کا سینیریو پہلے بھی ایران کے خلاف تیار کیا جا چکا ہے جب یہ دعوی کرتے ہوئے کہ یمن کی عوامی رضاکار فورس نے ایران کے دیئے ہوئے میزائل سے سعودی عرب پر حملہ کیا ہے مسئلے کو سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا تھا۔

لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا کیونکہ سعودی عرب کا دعوی سرے سے جھوٹ پر مبنی تھا بالکل اسی طرح جیسے اس وقت بھی سعودی د‏عوؤں میں کوئی صداقت نہیں پائی جاتی اور نہ ہی ان کا کوئی ثبوت ہے-

لیکن اس سینیریو کا دوسرا مقصد تکفیری دہشت گردوں کے لئے سعودی عرب کی مالی اور اسلحہ جاتی حمایت اور یمن میں عام شہریوں خاص طور پر بچوں اور خواتین پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں پر پردہ ڈالنا ہے تاکہ آل سعود حکومت اس سلسلے میں جواب دہی سے فرار کر سکے-

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close