اہم ترین خبریںپاکستان

المحسن ہال کیس: سپریم کورٹ کی جانب سے شیعہ جوانوں و علماء کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم

شیعت نیوز: المحسن ہال و امام بارگاہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اکابرین ملت ، فعال شیعہ جوانوں اور علماء کرام کے خلاف دئیے گئے فیصلے کو چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے شیعہ علماء اور عمائدین کو باعزت بری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ۳ ماہ قبل سندھ ہائی کورٹ میں المحسن ہال کیس کی سماعت کے دوران جج نے شیعہ علمائے کرام اور ملت کے سرکردہ جوانوں ( جو المحسن ہال کے انتظامی معاملات گزشتہ ایک دہائی سے چلا رہے تھے )کیخلاف فیصلہ دیتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا تھا اور المحسن امام بارگاہ و یتیم خانے کا چارج چند سرمایہ داروں کہ حوالے کردیا تھا ، جس کے خلاف المحسن ہال ٹرسٹ کے گرفتار اراکین آصف عباس ، شاہد جیوانی ، شیعہ سماجی رہنماء الحاج ناصر عباس ، مولانا محسن نقوی مرحوم کہ فرزند احسن نقوی ایڈوکیٹ اور دیگرنے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : بے گناہ شیعہ عالم دین علامہ علی مرتضیٰ زیدی 20 روز بعد ضمانت پر رہا

اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام علمائے کرام اور شیعہ زعماء کو اس کیس سے باعزت بری کردیا۔

واضح رہے کہ ملت کی خیر خواہی کے لبادے میں موجود قوم کے سودے بازوں نے ان علما ءاور قوم کے زعماء سمیت شیعہ قوم کے ادارے المحسن ہال کے خلاف سازشیں کرنے والوں کی مکمل پشت پناہی کی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کے ملت کی اہم ترین اراضی محکمہ اوقاف کے حوالے کر دی گئ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close