پاکستان

1925ء میں آل سعود کے حکم پر جنت البقیح کو مسمار نا کیا جاتا تو آج دنیا میں کہیں بھی فرقہ واریت نا ہوتی، اشتر رضا اشتر

حسینی فورس کے سربراہ اشتر رضا اشتر نے میڈیا میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ اگر 1925ء میں آل سعود کے حکم پر جنت البقیح کو مسمار نا کیا جاتا تو آج دنیا میں کہیں بھی فرقہ واریت نا ہوتی، فرقہ واریت شروع سے آج تک سعودیہ سے پھیلی ہے۔ سعودی بادشاہت نے فقط اپنی بادشاہت کی سلامتی کے لیے اسلام کا اور امت مسلمہ کا مزاق بنایا اور پھر اسکے بعد بھی دل نہیں بھرا تو دنیا بھر کے دھشتگردوں کو اکسایا پیسہ دے کر کے وہ دھشتگردی کریں۔ آج جو داعشی دھشتگرد مزارات کو مسمار کر رہے ہیں یہ سعودی تعلیم کا نتیجہ ہے۔

ہم شعیان علی علیہ السلام 8 شوال کو ہمیشہ اس یاد سے گزارتے ہیں کہ اس نا صرف رسول خدا کی اکلوتی بیٹی (بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا) کار وضہ مسمار ہوا بلکہ سعود نسل نے دنیا بھر میں فرقہ واریت کی بنیاد ڈال دی جو امت مسلمہ کے لیے بہت دلسوز عمل ہے۔
اور انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں کہ جب زمانہ آل سعود کی نابودی دیکھے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close