دنیا

عالمی سطح پر امریکہ کی ریاستی دہشت گردی اور نسل پرستی کی شدید مذمت

شیعت نیوز: امریکہ میں غیر سفید فام بالخصوص افریقی نژاد امریکی شہریوں کے ساتھ ریاستی دہشت گردی اور نسل پرستی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی وحشیانہ طریقے سے سرکوبی کی اقوام متحدہ اور یورپ نے بھی مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کی سربراہ میشل باچلے نے امریکہ میں عوام کے احتجاجی مظاہروں کے دوران نامہ نگاروں اور مظاہرین کے ساتھ امریکی پولیس کے پر تشدد رویے پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے امریکی حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے عوام اور عام شہریوں کی صدائے احتجاج پر توجہ دیں جو امریکہ سے نسل پرستی ختم کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے بھی امریکہ میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر اپنے ردعمل میں اعلان کیا ہے کہ امریکی پولیس کا ایسا پرتشدد رویہ برسلز کے لئے حیرت کا باعث ہے۔ انہوں نے امریکہ میں احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کے ساتھ پولیس کے تشدد آمیز رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کے شہریوں کو بھی امریکی عوام کی مانند جارج فلوئیڈ کی موت پر تعجب ہوا ہے اور اس قسم کے واقعات پر ان میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سابق امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس کاامریکی صدر ٹرمپ کے متعلق اہم انکشاف سامنے آگیا

جرمن چانسلر کے ترجمان نے بھی اعلان کیا ہے کہ امریکہ میں سیاہ فام شہری کے بے دردی سے ہونے والے قتل پر جرمنی کو حیرت ہوئی ہے۔انہوں نے امریکہ کے سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو نسل پرستی کا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔

جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے بھی کہا ہے کہ جارج فلوئیڈ کے قتل پر امریکی عوام کا احتجاج بالکل بجا اور قانونی ہے جس کی کوئی مخالفت نہیں کی جا سکتی۔

امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف ملک گیر سطح پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مغربی ملکوں میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں بعض شہروں میں تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے دفتر کے سامنے نسل پرستی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپیں ہوئیں جن کی خبروں کو برطانوی ذرائع ابلاغ میں سینسر کر دیا گیا اور ان جھڑپوں کے بارے میں کوئی خبر نشر نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں حالات کشیدہ، پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ نویں روز بھی جاری

لندن کی پولیس نے ایک بیان میں بس یہ اعلان کیا ہے کہ لندن میں کئے جانے والے مظاہرے کے دوران دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ برطانیہ کی پولیس نے اس سلسلے میں مزید کچھ بھی بتانے سے گریز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان دونوں افراد کو پولیس اہلکاروں پرحملہ کرنے اور بدامنی پھیلانے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

برطانوی پولیس کا یہ بیان ایسے حالات میں سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا میں جاری ہونے والی تصاویر سے لندن میں وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہونے کا پتہ چلتا ہے اور ان تصاویر میں پولیس اہلکار، مظاہرین پر تشدد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

رآئیٹرز کے مطابق سوئیڈن کے دار الحکومت اسٹاک ہوم میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام نے امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کے قتل اور امریکی پولیس کے پرتشدد رویے کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ انسداد کورونا مہم کے تحت پچاس افراد سے زائد افراد کا اجتماع کئے جانے پر پابندی کے باوجود ہوا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں اور سیاہ فام شہریوں کو بھی جینے کا حق حاصل ہے۔

یونان کے عوام نے بھی امریکہ میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی شہریوں پر تشدد کے خلاف بدھ کی رات ایتھنز میں امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے دوران یونان کے عوام نے امریکی شہریوں سے یکجہتی و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے غیر سفید فام شہریوں خاص طور سے سیاہ فام امریکی شہریوں کے خلاف امریکی پولیس کا تشدد اور اس ملک میں نسل پرستی کا سلسلہ ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا۔

امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف پولیس کے نسل پرستانہ اقدامات کے خلاف یورپ کے کئی دیگر شہروں منجملہ برلن، امسٹرڈم اور پیرس میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور مظاہرین نے امریکی پولیس کے مہیمانہ رویے کی شدید مذمت کی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close