اہم ترین خبریںپاکستانشیعت نیوز اسپیشل

علامہ عارف حسینی کوکیوں قتل کیا گیا؟

علامہ عارف حسینی کی قیادت و رہنمائی میں پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے صدیوں کا سفر چند برسوں میں طے کرلیا۔ غیبت حضرت ولیعصر (عج) کے دور میں امت کو جس نظام ولایت کے تابع ہونا چاہئے تھا، اسکی تبلیغ اور اسکو عوامی سطح پر رائج کرنے کے لئے عملی کوششیں انہی کی قیادت کے دورمیں ہوئیں۔

تحریر : غلام حسین شیعت نیوز اسپیشل

علامہ سید عارف حسین ال حسینی سرزمین پاکستان کے وہ عظیم انقلابی عالم دین تھے کہ ان کی شخصیت اور نظریات کے اثرات انکی شہادت کے اکتیس سال بعد بھی اس مملکت خداداد پر ویسے ہی زندہ و جاوید ہیں جیسا اس فانی دنیا میں انکے وجود پرفیض سے صادر ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج اکتیس سال بعد بھی موجودہ نسل کو خاص طور پر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر اس شیعہ اسلامی انقلابی عالم دین کو قتل کیوں کیا گیا؟ وہ کس کے لئے خطرہ تھے؟ کس کی راہ میں رکاوٹ تھے؟ آخر اس پورے ملک میں انہیں ہی کیوں منظر سے ہٹانا ناگزیر سمجھا گیا؟ اس سوال کا جواب اس تحریرمیں بیان کیا جائے گا۔

اس وقت عالمی منظر نامہ کچھ یوں تھا کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا مغربی بلاک سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ اشتراکی بلاک کے خلاف سرد جنگ میں مصروف تھا اور اسی مغربی بلاک میں بہت سارے مسلمان ممالک خاص طور پر سعودی عرب اس سرمایہ دارانہ بلاک کے قائد یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کا بہت بڑا مہرہ تھا۔ اسی بین الاقوامی ایجنڈا کے تناظر میں سابقہ سوویت یونین (موجودہ روس) کے اشتراکی اثرات کا راستہ روکنے کے لئے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے پاکستان کی اہمیت تھی۔

اور مسئلہ یہ تھا کہ 1970ع کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو اور انکی پاکستان پیپلز پارٹی کی یہاں حکومت تھی کہ جو اسلامی سوشلزم کے نظریے کے پرچارک تھے اور یہ لفظ سوشلزم سوویت بلاک سے مخصوص تھا مگر بھٹو نے کرنل قذافی سے متاثر ہوکر سوشلزم پر اسلامی تڑکا لگایا۔

علامہ عارف حسینی کی قیادت و رہنمائی میں پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے صدیوں کا سفر چند برسوں میں طے کرلیا۔ غیبت حضرت ولیعصر (عج) کے دور میں امت کو جس نظام ولایت کے تابع ہونا چاہئے تھا، اسکی تبلیغ اور اسکو عوامی سطح پر رائج کرنے کے لئے عملی کوششیں انہی کی قیادت کے دورمیں ہوئیں۔

لہٰذا بھٹو کے سیاسی نعرے اور بعض نظریات کی وجہ سے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے اس مغربی سرمایہ دارانہ بلاک کی نظر میں وہ ناقابل اعتبار حکمران قرار پائے۔ انکی غلطیاں اپنی جگہ، مگر اردن میں تعیناتی کے دوران بریگیڈیئر ضیاء الحق نے تنظیم آزادی فلسطین کے متوالوں کی ایسی کی تیسی کرکے زایونسٹ لابی کو اتنا خوش کردیا تھا کہ جب انہوں نے5جولائی 1977ع کو بھٹو کی حکومت کا دھڑن تختہ کیا تودنیا نے اس پر روایتی زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہ کیا اور دکھاوے کے اس کھوکھلے زبانی جمع خرچ کا ہی نتیجہ یہ تھا کہ بھٹو کو پھانسی پر چڑھادیا گیا لیکن بعد میں دنیا نے دیکھا کہ امریکا و برطانیہ و سعودی عرب سمیت یہ پورا مغربی بلاک جنرل ضیاء کی غیر آئینی فوجی آمریت کی پشت پناہی کرتا نظر آیا۔

ٍٍ 1980ع کے عشرے کا آغاز اس تناظر میں ہوا تھا۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد پورے پاکستان میں ڈکٹیٹر ضیاء کے ظلم و ستم کی وجہ سے خوف و ہراس پورے ملک میں محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لیکن جبر و تشدد و گھٹن کی اس فضاء میں جو صدائے حق سب سے پہلے گونجی وہ پاکستانی شیعہ مسلمانوں کی تھی۔

غیر آئینی و غیر اسلامی، مسلط آمرانہ حکومت نے زکات آرڈیننس کے ذریعے سارے مسلمان شہریوں سے زکات کی جبری وصولی کرنا شروع کی تو شیعہ مسلمان شہریوں نے احتجاجی تحریک شروع کی کیونکہ شیعہ اسلامی فقہی تشریح کے مطابق زکات کی وصولی کا اختیارغیبت حضرت ولی عصر کے دور میں انکے نائب یعنی جامع الشرائط فقیہ مرجع تقلید کو ہوتا ہے۔

شیعہ اسلامی علمائے کرام کی رہنمائی و قیادت میں جو تحریک چلی اس نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس تحریک سے نہ صرف ایک ملک گیر شیعہ اسلامی دینی و سیاسی جماعت کا جنم ہوا بلکہ اس دوران بعض فعال انقلابی علماء بھی منظر عام پر آئے۔ ان میں سب سے بزرگ مفتی جعفر حسین تھے تو جوان علماء میں منفرد و ممتاز علامہ سید عارف حسین ال حسینی تھے جن کا تعلق پاراچنار سے تھا۔ مفتی جعفر حسین صاحب جیسے متقی و صالح جید عالم دین کی رحلت کے بعد عام شیعہ مسلمانوں کا معیار اتنا بلند ہوچکا تھا کہ اب انہیں ان سے زیادہ یا کم از کم ان جیسا ہی انکا کوئی جانشین درکار تھا۔ اور خدا کا کرنا یہ ہوا کہ باوجود کم عمری کے علامہ عارف حسینی کو عمر رسیدہ علماء پر ترجیح و فوقیت دے کر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا قائد منتخب کیا گیا۔ یہ تحریک بعد میں نام کی تبدیلی سے تحریک جعفریہ پاکستان ہوگئی۔

وہ پاکستان کے نظریاتی سیاسی و دینی رہنما تھے، مظلوم کے مددگار اور ظالم و مستکبرین کے دشمن۔ ملکی معاملات میں انکا موقف ضیائی اسٹیبلشمنٹ اور انکے آلہ کاروں کو پسند نہیں تھا۔ جبکہ اس وقت ضیائی اسٹیبلشمنٹ، زایونسٹ کیپٹلسٹ مغربی بلاک پر مشتمل انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اور انکی آلہ کار سعودی وہابی بادشاہت کی لاڈلی ہوا کرتی تھی۔

علامہ عارف حسینی کی قیادت و رہنمائی میں پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے صدیوں کا سفر چند برسوں میں طے کرلیا۔ غیبت حضرت ولیعصر (عج) کے دور میں امت کو جس نظام ولایت کے تابع ہونا چاہئے تھا، اسکی تبلیغ اور اسکو عوامی سطح پر رائج کرنے کے لئے عملی کوششیں انہی کی قیادت کے دورمیں ہوئیں۔ عزاداری کے ساتھ ساتھ فروع دین پر عمل کو بھی ترجیح دی جانے لگی۔ باقاعدہ دعائیہ اجتماعات بھی ہونے لگے۔ عزاداری کے جلوسوں میں اگر نماز کا وقت آجاتا تو پھر وہیں نماز باجماعت کا انعقاد بھی ہونے لگا۔ دنیا کے ستم رسیدہ و مظلوم مسلمانوں کے حق میں مظاہرے بھی ہونے لگے۔

ایک جملے میں کہا جائے تو تشیع پاکستان جس پر عزاداری کا رنگ نمایاں تھا، اور عزاداری پر بھی رسم و رواج کے اثرات غالب تھے، علامہ عاف حسینی کی قیادت میں تشیع پاکستان پر وہ سارے رنگ نمایاں ہونے لگے اور وہ اثرات غالب آنے لگے کہ جو چہاردہ معصومین (ع) یا پھر یوں کہیں کہ تشیع پاکستان، قر آن و اہلبیت ؑ کے اصل اسلام یعنی اسلام ناب محمدی کے صبغت اللہی رنگ میں رنگنے لگی۔ اور عدالت و آزادی کے خدائے واحد و احد کے معصوم نمائندے اور دنیا کے حریت پسند عدالت خواہ انقلابیوں کے بے مثال و لازوال قائد سرور و سالار شہیدان اباعبداللہ الحسین ع کی یاد میں ہونے والی عزاداری میں عصر حاضر کے یزیدوں کو بے نقاب کیا جانے لگا اور ان کو بھی مردہ باد کہا جانے لگا۔

ٍ ایک طرف داخلی سطح پر تشیع پاکستان میں یہ حسینی انقلابی رنگ نمایاں ہونے لگے تو ملکی سیاسی منظر نامے میں بھی تشیع پاکستان کا یہ بیانیہ عوامی سطح پر مقبول ہونے لگا۔ یادر ہے کہ اسلام دشمن مغربی سرمایہ دارانہ بلاک اور زایونسٹ لابی کے ایجنڈا پر عمل کرنے والے ضیائی ٹولے نے بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے فوجی بغاوت کی تو اس سے پہلے اسکی راہ ہموار کرنے والے بھی کوئی اور نہیں بلکہ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان اور انکے قائدین تھے۔ بعد ازاں ان میں سے بعض یا تو تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کا حصہ بن گئے یا پھر ضیاء کی مخالفت کرتے نظر آئے۔ لیکن یہ سبھی جب یا ضیاء کے ساتھ تھے یا پھر ضیاء سے ڈر کر ڈرائنگ روم کی سیاست پر مجبور ہوگئے تھے تب شیعہ مسلمانوں کی تحریک نے ضیائی آمریت کا وہ بھرم چکنا چور کیا تھا۔

پاکستان میں جب بھی انقلاب، حقیقی اسلام اور مخلص نظریاتی انقلابیوں، شہداء و جانبازوں اور ایثار گروں کی تاریخ لکھی جائے گی تو ان سب کا کریڈٹ علامہ عارف حسینی شہید کو ہی جائے گا کیونکہ تاریخ پاکستان میں اب تک وہی ایک نمونہ عمل ہستی نظرآتی ہیں.

جب پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر مغربی سرمایہ دارانہ بلاک اور زایونسٹ لابی کے پسندیدہ نام نہاد ”افغان جہاد“ میں خضوع و خشوع سے جوق در جوق شامل ہورہے تھے تب بھی علامہ عارف حسینی واحد اسلامی دینی و سیاسی قائد و رہنما تھے جنہوں نے امریکی قیادت میں متحد زایونسٹ و سرمایہ دارانہ بلاک کی سازشوں کو عوام میں بے نقاب کیا۔ انہوں نے تشیع پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا۔ قرآن و سنت کانفرنس منعقد کی۔ سادہ لوح عوام کی جہالت کو دور کردیا۔ اور سنی، شیعہ اتحاد کے لئے عملی کوششیں کیں۔ انکے خلوص کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنی مذہی شخصیات انکی امامت میں ہونے والی باجماعت نماز میں شریک ہونے لگیں۔

وہ پاکستان کے نظریاتی سیاسی و دینی رہنما تھے، مظلوم کے مددگار اور ظالم و مستکبرین کے دشمن۔ ملکی معاملات میں انکا موقف ضیائی اسٹیبلشمنٹ اور انکے آلہ کاروں کو پسند نہیں تھا۔ جبکہ اس وقت ضیائی اسٹیبلشمنٹ، زایونسٹ کیپٹلسٹ مغربی بلاک پر مشتمل انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اور انکی آلہ کار سعودی وہابی بادشاہت کی لاڈلی ہوا کرتی تھی۔ اس مغربی بلاک اور اسکی آلہ کار سعودی و خلیجی حکومتیں صدام کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ میں درپردہ فریق بنی ہوئیں تھیں۔ بین الاقوامی ایشوز پر بھی علامہ عارف حسینی کا بیانیہ ان سب کے شوم کردار کو بے نقاب کرنے پر مبنی تھا۔ پاکستان میں امام خمینی یا باقر الصدر ٹائپ کے کسی شیعہ اسلامی انقلابی عالم دین کی فعالیت، جاذبیت و مقبولیت انکے لئے بھی قابل قبول نہیں تھی۔ تو یہ ضیائی اسٹیبلشمنٹ اور زایونسٹ کیپٹلسٹ، سعودی، صدامی مشترکہ خواہش تھی کہ پاکستان کے اصلی حسینی کی صدائے حق کو قتل کے ذریعے خاموش کردیا جائے۔

البتہ یہ نکتہ بھی ہرگز فراموش نہ کیا جائے کہ یہ قاتل ٹولہ اس حد تک منافق اور ڈرپوک تھا کہ اس عالمی سطح کی سازش پر عمل کے لئے کرائے کے قاتل کو منتخب کیا تاکہ انکا کردار چھپ جائے۔ دوسرا نکتہ جو فراموش نہیں کیا جاسکتا وہ یہ کہ پاکستان میں جب بھی انقلاب، حقیقی اسلام اور مخلص نظریاتی انقلابیوں، شہداء و جانبازوں اور ایثار گروں کی تاریخ لکھی جائے گی تو ان سب کا کریڈٹ علامہ عارف حسینی شہید کو ہی جائے گا کیونکہ تاریخ پاکستان میں اب تک وہی ایک نمونہ عمل ہستی نظرآتی ہیں

(پانچ اگست 1988کو عظیم پاکستانی شیعہ اسلامی دینی و سیاسی انقلابی عالم دین، قائد و رہنما علامہ سید عارف حسین ال حسینی نے جام شہادت نوش کیا۔ التماس سورہ فاتحہ)

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close