کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںمقالہ جات

کیا امریکہ ایران پہ حملہ کرسکتا ہے ؟ علامہ راجہ ناصر عباس کا تجزیہ

اسرائیل سمیت عرب اتحادیو ں کی مثال ایسی ہی ہے کہ نہ خنجر اٹہے گا نہ تلوار ان سے ،یہ بازو میرے آزمائےہوئے ہیں"۔ان کی حالت غزہ، لبنان اور یمن میں دیدنی ہے ۔

اس وقت امریکہ کی حالت مقاومت کے بلاک کی سپر اسٹریٹجی کی وجہ سے” نہ جای رفتن نہ پای ماندن ” والی ہے ۔یعنی امریکا اگر اس خطے میں اپنی hegemony کو درپیش serious threats سے صرف نظر کرتاہےاور میدان مقاومت کے بلاک کے لئے خالی چھوڑ دیتا ہے تو اس وقت اس عقب نشینی کے نتیجے میں نہ صرف مغربی ایشیا میں امریکی تسلط کا خاتمہ ہو گا بلکہ ساری دنیا میں امریکی تسلط کا خاتمہ ہو گا، جو امریکہ کی سالمیت کو خطرات میں ڈال سکتا ہے ۔

اور بسا امریکہ گوربا چوف کے دور میں سوویت یونین والی صورت حال کا شکار ہوسکتا ہے ۔اور اگر امریکہ اس خطے میں مقاومت کے بلاک کے ساتھ اپنی پنجہ آزمائی جاری رکھتا ہے تو اس کی ممکنہ صورتیں درج ذیل ہوسکتی ہے ۔

  • امریکہ دہشت گردوں کے ذریعے proxy war مقاومت کے بلاک کو الجھائے اور اسے جھکنے پر مجبور کرے ۔
  • ایک بین الاقوامی الائنس کے ذریعے مقاومت کے بلاک کو راستے سے ہٹائے ۔
  • خطے میں اپنے allies کے ذریعے مقاومت کو مشکلات کا شکار کرے، اسے کمزور کرے اور شکست دے ۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے ’احمقانہ‘ کہتے ہوئے امریکی دھمکیوں کو مسترد کر دیا

جہاں تک دہشت گردوں کے ذریعے مقاومت کو راستے سے ہٹانے کی بات ہے تو یہ منصوبہ عراق، شام اور لبنان میں بڑی طرح شکست کھا چکا ہے۔ جہاں تک ایک عالمی الائنس بنا کر مقاومت پر حملہ آ ورہونے کی بات ہے تو اس وقت اس کا بھی امکان بہت کم ہے۔ ایک تو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے اس کی منظوری لینا ناممکن ہے کیونکہ چین اور روس اسے ویٹو کر دیں گے ۔اور جہاں تک لیبیا کی طرز پر ایران پر نیٹو فورسز کے ذریعے حملہ ہواور عرب ممالک اور اسرائیل نیٹو فورسز کا ساتھ دیں، اگر چہ اس کا احتمال ہے۔

لیکن کیا امریکہ اس حملے سے اپنے اہداف کو حاصل کر پائے گا ؟

یہ بھی ایک million dollar question ہے ۔چونکہ مقاومت کے بلاک کی طاقت اور توانائی سب کے سامنے ہے۔آج غزہ سے لیکر لبنان اور شام و عراق سے لیکر یمن تک سب کے سامنے ہے ۔ان تمام areas میں اکثر ممالک جو نیٹو فورسز کا حصہ ہے امریکہ کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں شریک ہیں وہ مقاومتی تحریکون سے شکست کھا چکی ہیں ۔ خطے میں امریکہ کے اسرائیل سمیت عرب اتحادیو ں کی مثال ایسی ہی ہے کہ نہ خنجر اٹہے گا نہ تلوار ان سے ،یہ بازو میرے آزمائےہوئے ہیں”۔ان کی حالت غزہ، لبنان اور یمن میں دیدنی ہے ۔اسرائیل نے جب سے غیر قانونی اور غیر شرعی وجود میں پایا ہے جتنا آج کمزور ، خوفزدہ اور اپنے مستقبل کے بارے مایوس اور ناامید ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا ۔

اسرائیل نے گھٹنے ٹیک دیئے

ابھی حال ہی میں اسرائیل غزہ کے محصور، مظلوم فلسطینیوں پر حملہ کر کے منہ کی کھا چکا ہے ، مقاومت کے جوابی حملے میں اسرائیل نے دو دنوں میں ہی گھٹنے ٹیک دیے ۔اور جہاں تک امارات اور سعودی عرب کا تعلق ہے ، تو دونوں کے یمن پر حملے کو 50 مہینے ہوچکے ہیں، حالانکہ وہ ایک ہفتے میں یمن پر قبضہ کرنا چاہتےتھے ۔اب یمن ان دونوں ملکوں کے لئے دلدل بن چکا ہے اور آئے دن یمنی ان کا شکار کرتے ہیں اور انہیں واصل جہنم کرتے ہیں۔ ان کی آرزوئیں یمنی مقاومت کی وجہ سے خاک میں مل چکی ہیں ۔

تو ایران پر ان عرب ملکوں کا حملہ ” کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ ” کی مانند ہے ۔لہذا امریکہ کے پاس ایران کو دھمکیوں، نفسیاتی جنگ ( media war)اور اقتصادی پابندیوں کےعلاوہ بظاہر کوئی اور حربہ نہیں ۔کیا امریکہ ان حربوں کے ذریعے مقاومت کے بلاک اور ایران کو شکست دے سکتا ہے، جبکہ مقاومت کا بلاک بہت اپنی اسٹریٹیجیز، فیصلوں ، اقدامات کے لحاظ سے smart، fast , confident , اور motivated ہے۔ وہ ایران کے اندر داخلی شورش کے منصوبوں سے مکمل آگاہ ہے اور اب عوام بہیبڑی حد تک ان سازشوں سے آگاہ ھیں۔ اور اس کےعلاوہ مقاومت کے بلاک کو اپنی فتح اور دشمن کی شکست کا مکمل یقین ہے ۔۔الا ان نصر اللہ قریب

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close