دنیا

امریکہ کا زوال، روسی جنگی طیاروں نے امریکہ کے جہاز کو بحیرۂ روم میں روک لیا

شیعت نیوز: روس کے جنگی طیاروں نے امریکہ کے جہاز کو بحیرۂ روم میں روک لیا۔ امریکی بحریہ نے 2 روسی ایس یو 35 جنگی طیاروں کے ذریعہ بحیرۂ روم میں امریکی بحریہ کے پوسائیڈن جہاز کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

روسی بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز کا بحیرۂ روم کے مشرق میں داخلہ غیر محفوظ تھا اور روس کے جنگی طیاروں نے امریکہ کے جہاز کو بحیرۂ روم میں روک لیا۔

روسی بحری حکام کے مطابق بحیرۂ روم پر پرواز کے دوران امریکہ اور روس کے طیارے آمنے سامنے آ گئے تھے، روسی جنگی طیاروں نے امریکی طیارے کو گھیر کر پیچھے ہٹا دیا۔

یہ بھی پڑھیں : سرحدی کشیدگی میں اضافہ، چین کا لداخ کے اندر گھس کر بھارتی افواج پر حملہ

واضح رہے کہ گزشتہ روز بحیرۂ روم میں امریکی جہاز کو روکنے کا یہ 2 ماہ میں تیسرا واقعہ ہے، اس سے قبل اپریل میں اسی نوعیت کے 2 واقعات پیش آ چکے ہیں جس سے بخوبی دکھائی دیتا ہے کہ دنیا پرامریکی تسلط کا خاتمہ ہو رہا ہے اور امریکہ تیزی سے زوال کی جانب گامزن ہے۔

دوسری جانب روس نے طویل فاصلے پر نشانہ بنانے اور ریڈار کی نظروں سے بچنے والے طیارے بنانے شروع کر دیئے۔

تاس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت دفاع کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ ملک میں طویل فاصلے پر نشانہ بنانے میں قادر اور ریڈار کو دھوکہ دینے والے نئے طیارے بنانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔

ان عہدیداروں نے بتایا کہ روس میں طیارے بنانے والے ایک کارخانے میں ان طیاروں کے ساز و سامان بنانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔

روس کے ان عہدیداروں نے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان کہنا تھا کہ چھٹی نسل کے یہ طیارے 2021 کے آخر تک بن کر تیار ہو جائیں گے۔

اس سے پہلے تاس خبر رساں ایجنسی نے روس کے نائب وزیر دفاع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ طویل فاصلے پر نشانہ بنانے والے طیاروں کو بنانے کی ذمہ داری توپولوف کمپنی کو دی گئی ہے۔

روس کے پاس اس وقت طویل فاصلے پر نشانہ بنانے والے طیارے ٹیولوف-160 موجود ہے جو اسٹیلتھ نہیں ہے یعنی ریڈار کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close