اہم ترین خبریںعراق

امریکہ کے دہشت گردانہ حملوں کا ہر حال میں جواب دیں گے۔ حشد الشعبی

شیعت نیوز: عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی نے کہا ہے کہ استقامتی گروہ امریکہ کے دہشت گردانہ حملوں کا ہر حال میں جواب دیں گے۔ اس درمیان عصبۃ الثائرین نامی ایک گروہ نے التاجی میں دہشت گرد امریکی فوج کے اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی میں شامل ایک گروہ سرایا الخراسانی نے کہا ہے کہ ملک کے استقامتی گروہ امریکہ کے دہشت گردانہ حملوں کا ہر حال میں جواب دیں گے اور یقینی طور پر یہ حملے امریکہ کے لئے انتہائی دردناک اور سخت ہوں گے۔

عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی سے وابستہ استقامتی گروہ سرایا الخراسانی کے جنرل سکریٹری علی الیاسری نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی سرزمین میں امریکہ کے حالیہ دہشت گردانہ حملے عراق کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عراقی فوج کی مشترکہ کمان کا امریکہ کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ امریکی دہشت گردی کے جواب میں استقامتی گروہوں کے ممکنہ جوابی حملوں کی وجہ سے بغداد میں امریکی سفارتخانے پر خوف و وحشت طاری ہے اور امریکہ کے خلاف استقامتی گروہوں کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکہ کی دہشت گرد فوج عراق سے باہر نہیں چلی جاتی۔

گذشتہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بغداد کے شمال میں واقع التاجی میں دہشت گرد امریکی فوج کے اڈے پر کٹیوشا راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں دو امریکی اور ایک برطانوی فوجی ہلاک جبکہ بارہ امریکی زخمی ہوئے تھے۔

اس درمیان خبر ہے کہ عراق کے ایک استقامتی گروہ نے التاجی میں امریکی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ المیادین ٹیلی ویژن کے مطابق ذمہ داری قبول کرنے والے اس گروہ کا نام عصبۃ الثائرین ہے۔

حشد الشعبی نے التاجی پر ہوئے حملے سے اپنی لاتعلقی کا پہلے ہی اعلان کردیا تھا لیکن اس کے باوجود امریکہ کے جنگی طیاروں نے جمعرات اور جمعہ کو عراق کے مختلف علاقوں میں عراقی فوج اور حشد الشعبی کے مراکز اور کربلا کے زیر تعمیر سویلین ہوائی اڈے پرحملہ کیا تھا جس میں متعدد عراقی شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے۔

التاجی فوجی اڈہ بغداد سے ستائیس کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے اور امریکی دہشت گرد عراقی فوجیوں کو ٹریننگ دینے کے بہانے اس اڈے میں موجود ہیں۔ عراق میں دہشت گرد امریکی فوج ایک ایسے وقت اپنی موجودگی پر اصرار کر رہی ہے جب عراقی پارلیمنٹ نے گذشتہ پانچ جنوری کو ایک بل پاس کر کے ملک سے فوری انخلا کے لئے امریکہ کو حکم دے دیا ہے۔

امریکی فوج کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیش نظر عراق کے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ امریکی فوج کو جلد سے جلد عراق سے نکال باہر کیا جانا چاہئے۔ مختلف سیاسی گروہوں اور شخصیات نے عراقی پارلیمنٹ اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ امریکی فوج کو ملک سے باہر نکالنے کے لئے جلد اقدامات کریں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close