دنیا

امریکہ کی ہٹ دھرمی سے گروپ سیون اجلاس ناکام ہوا

شیعت نیوز : گروپ سیون کے وزرائےخارجہ کا اجلاس جو کورونا وائرس کے قہر کی وجہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انجام پایا، کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔

غیر ملکی نشریاتی اداروں کے مطابق ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہونے والا یہ اجلاس، امریکہ کی اس تجویز کی مخالفت کے بعد کہ ’’مشترکہ بیان میں ووھان وائرس کی عبارت تحریر کی جائے‘‘، کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔ گروپ سیون کے وزرائے خارجہ کا اجلاس کورونا وائرس کی وجہ سے ویڈیو کانفرنس کی صورت میں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : عراق: دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملے

اس سے پہلے گذشتہ پیر کو بھی گروپ سیون کا سربراہی اجلاس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انجام پایا تھا جس میں عالمی سطح پر کورونا کے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ گروپ سیون کے سربراہی اجلاس سے متعلق جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہونے والے اس اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ، برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو، جرمن چانسلر انجیلا مرکل، فرانس کے صدر امانوئل میکرون، جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبہ اور اٹلی کے وزیر اعظم جوزپہ کونتہ موجود ہیں ۔

البتہ گروپ سیون کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی ناکامی کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ گروپ کے رکن ملکوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ کی اس تجویز کی مخالفت کی کہ مشترکہ بیان میں کورونا وائرس کی جگہ ووھان وائرس کا لفظ استعمال کیا جائے۔

چنانچہ امریکی وزیر خارجہ کی اس غیر منطقی تجویز کی مخالفت کی وجہ سے یہ اجلاس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی اہم ہے کہ ہم بیان میں یہ شامل کریں کہ یہ وائرس کہاں سے شروع ہوا۔

اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے بھی چینی وائرس جیسے الفاظ کا استعمال کیا تھا جس پر چین نے شدید احتجاج کیا تھا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ کورونا وائرس چین سے شروع ہوا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس وائرس کی علت اور سبب کیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے جمعرات کو اپنے بیان میں امریکہ سے کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس پر سیاست کرنے سے باز رہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں کہا کہ چـین کورونا پر سیاست کئے جانے کا مخالف ہے اور ساتھ ہی وہ عالمی سطح پر کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے دنیا کے سبھی ملکوں کے ساتھ تعاون کو بھی تیار ہے۔

چینی وزرات خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے کہا کہ چین نے بارہا کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کا مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سرحدوں، مذاہب اور قومیتوں کو نہیں پہنچانتا اس لئے ضروری ہے کہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے سب متحد ہوں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سمیت دیگر امریکی حکام کورونا وائرس کے مسئلے پر چین کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتے ہیں جبکہ چین نے یہ خدشات ظاہر کئے ہیں کہ یہ وائرس امریکی فوج کے ہاتھوں تیار اور پھیلایا گیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close