دنیا

امریکہ میں نسلی امتیاز کے خلاف پرتشدد مظاہرے ، 4 ہزار افراد گرفتار

شیعت نیوز: امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ نسلی امتیاز اور تعصب کے خلاف پرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں اور حالات سنگین ہونے کے باعث کئی شہروں میں کرفیو نافذ کرکے فوج تعینات کردی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس تشدد سے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری ہے۔ ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں اور اس دوران پولیس موبائل سمیت کئی گاڑیوں اور دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔ جگہ جگہ دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں اور افراتفری کے مناظر ہیں۔

امریکی پولیس نے ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہرے کے دوران اب تک 2564 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم گرفتار ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار سے زائد ہے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پرتشدد مظاہرے کے دوران اب تک4 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق لاس اینجلس سے ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد پر کرفیو کی خلاف ورزی کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی امپریالزم کی ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آواز آنے لگی ہے۔ جنرل ابوالفضل شکارچی

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہیں۔ جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ پورے امریکہ میں جاری ہے اور اس دوران لوٹ مار بھی ہورہی ہے۔

مشتعل افراد نے بہت سی دکانوں کے شیشے توڑ کر انہیں لوٹ لیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 1400 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

متعدد شہروں اور ریاستوں منیسوٹا، اٹلانٹا، لاس اینجلز، ٹیکساس،کیلیفورنیا،نیویارک، کولمبیا کے میئرز نے کرفیو نافذ کرکے نیشنل گارڈ کو طلب کرلیا ہے۔

ملک بھر میں پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات ہے تاہم مظاہرین کے اشتعال اور غم و غصے کے آگے بے بس نظر آرہی ہے۔ اس احتجاج میں سیاہ فاموں کے ساتھ ساتھ سفید فام شہری بھی شامل ہیں۔

بعض مظاہرین نے رکاوٹیں عبورکرکے امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی جو پولیس کی بھاری نفری نے ناکام بنادی تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور انہوں نے کہا کہ مظاہرین وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئےتو انہیں خونخوارکتوں،سیکیورٹی اہلکاروں کاسامنا کرنا پڑیگا۔

اس بیان سے مظاہرین میں شدید اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے اسے اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر دھاوا بولنے کا عزم کیا ہے۔

ان ہنگاموں کی کوریج کے دوران بہت سے صحافی بھی ربڑ کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔

درایں اثنا اے بی سی ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ ریاست منے سوٹا کے حکام نے سیاہ فام امریکی شہری کے قتل میں ملوث پولیس افسر ڈریک چیون کو ضمانت پر رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ خـبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کے سامنے ایسی کوئی دستاویز پیش نہیں کی گئی جس میں سیاہ فام شہری کے قاتل امریکی پولیس افسر کو ضمانت پر رہا کرنے کی بات کی گئی ہو۔ اے بی سی ٹیلی ویژن کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ سیاہ فام امریکی شہری کے قاتل پولیس افسر کو پانچ لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 25 مئی کو منیسوٹا میں امریکی پولیس کے تشدد سے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سفید فام پولیس اہلکار نے اپنا گھٹنا جارج فلائیڈ کی گردن پر رکھ کر اتنا شدید دباؤ ڈالا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close