لبنان

امریکہ نے کس بنیاد پر لبنانی شخصیات پر پابندی لگائی ہے، وضاحت کریں: لبنانی صدر

لبنان کے صدر نے اپنے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بیروت میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کر کے امریکہ کے ہاتھوں لبنان کے دو سابق وزراء پر پابندی لگانے کی وضاحت طلب کریں۔

لبنانی صدر کے دفتر نے ایک بیان جاری کر کے بتایا ہے کہ صدر میشل عون نے ملک کے وزیر خارجہ شربل وہبہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بیروت میں امریکی سفارت خانے اور امریکہ میں لبنانی سفارت خانے سے رابطہ کرکے معلوم کریں کہ امریکہ کی وزارت خزانہ نے کس بنیاد پر لبنان کے دو سابق وزرا علی حسن خلیل اور یوسف فنیانوس پر پابندی عائد کی ہے ۔

حزب اللہ لبنان نے بھی ایک بیان جاری کر کے لبنان کے دو سابق وزیروں پر امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے ۔حزب اللہ نے لبنان کے دو سابق وزراء پر پابندی عائد کرنے کے ظالمانہ امریکی فیصلے کو بے داغ اور سچے افراد اور ان تمام لوگوں کے لئے اعزازی میڈل قراردیا ہے جن پر امریکہ استقامتی تحریک اور حزب اللہ کی حمایت کا الزام لگاتا ہے

۔لبنان کی امل تحریک نے بھی امریکی حکومت کی جانب سے امل سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر پر پابندی کو لبنان کے قومی اقتدار اعلی کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ لبنان کی قومی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تحریک امل نے ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ لبنان کے سابق وزیرخزانہ علی حسن خلیل پر پابندی عائد کرنے کا امریکی حکومت کا مقصد ملک میں وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کے لئے سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے تک پہنچنے سے روکنا ہے ۔

امریکی وزارت خزانہ نے منگل کو لبنان کے سابق وزیر ٹرانسپورٹ یو سف فینانوس اور وزیرخزانہ علی حسن خلیل پر حزب اللہ کی حمایت کرنے کے الزام میں پابندی عائد کردی ۔لبنان کے سابق وزیرٹرانسپورٹ فنیانوس کا تعلق سلیمان فرنجیہ کے زیرقیادت سیاسی جماعت المردہ سے ہے اور علی حسن خلیل لبنان کے سابق وزیرخزانہ اور وکیل ہیں اور ان کا تعلق تحریک امل سے ہے ۔

امریکہ نے لبنان میں حزب اللہ کی مثالی مقبولیت کو کم کرنے کے لئے لبنانی بینکوں اور شخصیات پر اس تنظیم سے رابطے کا الزام لگا کر پابندی عائد کردی ہے ۔حزب اللہ لبنان ، استقامتی محاذ کی اہم رکن ہے جو علاقے میں امریکی صیہونی محاذ کے اقدامات اور سازشوں کے مقابلے میں بنیادی کردار ادا کررہی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close