دنیا

امریکی بحری جنگی جہاز کی آگ پر دوسرے دن بھی قابو نہیں پایا جاسکا

شیعت نیوز : امریکی بحری جنگی جہاز میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششیں دوسرے روز بھی جاری ہیں جبکہ اس حادثے میں زخمیوں کی تعداد 70 سے زائد ہوگئی ہے۔

ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کی مدد سے جنگی جہاز میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش دوسرے دن بھی جاری ہے، واقعے میں بحری اہلکار سمیت تقریبا 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی حکام نامہ نگاروں کو حادثے کے مقام پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنگی جہاز میں آگ لگنے کی وجہ اب تک سامنے نہیں آسکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس 23 سالہ پرانے بحری بیڑے میں لگی آگ انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے بالخصوص جب یہ آگ اس کے اندر موجود 10 لاکھ لٹر سے زائد ایندھن اور دھماکہ خیز اسلحے کے گوداموں تک بھی پھیل جائے۔

یہ بھی پڑھیں : علامہ حسن ترابی شہید ایک ناقابل فراموش کردار

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا بھی پورا امکان موجود ہے کہ اس بحری بیڑے کو لگی آگ کئی دن تک جاری رہ کر اسے پانی کی تہہ میں پہنچا دے۔

واضح رہے کہ ’’یو ایس ایس بونہام ریچرڈ‘‘ نامی یہ امریکی جنگی بحری بیڑہ آخری مرتبہ سال 2018ء میں فوجی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا جبکہ اس کے بعد سے یہ اپنے گھر، سین ڈیاگو نیول بیس میں ہی کھڑا رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع سین ڈیاگو نیول بیس، بحر اوقیانوس میں امریکہ کی سب سے بڑی نیول بیس ہے جس کے اندر 50 سے زائد بڑے جنگی بحری بیڑے موجود رہتے ہیں۔

سال 1922ء سے کام کرنے والی اس امریکی بیس کے اندر 24 ہزار سے زائد فوجی و 10 ہزار سے زائد غیر فوجی افراد کام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سان ڈیاگو کے سمندر میں موجود يو ایس ایس بون ہوم رچرڈ نامی جنگی جہاز میں آگ لگ گئی تھی آگ پر دوسرے دن بھی قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close