کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
یمن

جارح قوتوں کے خلاف جوابی حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تحریک انصاراللہ

یمنی فوج کے ترجمان یحیی السریع نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمنی ڈرون طیاروں کے اس حملے میں سعودی شہر عسیر میں ملک خالد ایئر بیس میں جنگی طیاروں سے متعلق اسلحے اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی-

یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ہوائی حملوں اور وحشیانہ جارحیتوں کے جواب میں کیا گیا ہے- انہوں نے کہا کہ سعودی فوجی مراکز، ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر یمنی فوج کے اس طرح کے حملے جاری رہیں گے-

ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا دائرہ اور بھی وسیع کیا جائے گا اور جارح قوتوں کے خلاف ایسے شدید حملے کئے جائیں گے جن کے بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہیں ہو گا-

پچھلے مہینوں کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں کے فوجی مراکز پر یمنی فوج نے بارہا ڈرون حملے کئے ہیں جن کی بنا پر جارح قوتوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اس درمیان یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ نے جارح سعودی اتحاد کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے جوابی حملے اسی صورت میں بند ہوں گے جب جارح اتحاد کی وحشیانہ جارحیتیں بند اور یمن کا محاصرہ ختم کر دیا جائے گا-

یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے ترجمان اور یمن کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے کہ جارح سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر یمنی فوج کے حملے جائز اور قانونی ہیں اور یہ حملے مزید تیز کئے جائیں گے-

اس درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یمن کے مغربی شہر الحدیدہ میں فائربندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے مشن کی مدت میں مزید توسیع کر دی-

سلامتی کونسل نے سیکریٹری جنرل گوترش سے کہا ہے کہ وہ الحدیدہ میں فائربندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی اس شہر میں موجودگی کی مدت میں مزید چھے ماہ کی توسیع کر دیں-

سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ملکوں کی حمایت سے چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ کو یمن پر اپنے وحشیانہ حملے شروع کئے تھے جو ابھی تک جاری ہیں-

اس دوران جارح سعودی اتحادکے حملوں میں دسیوں ہزار عام شہری مارے گئے ہیں جبکہ اس ملک کی بنیادی شہری تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں- جارح سعودی اتحاد اپنے وحشیانہ حملوں اور یمن کا سخت ترین محاصرہ کرنے کے باوجود ابھی تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے اور جنگ کا دائرہ اب یمن سے نکل کر سعودی عرب کے اندر تک پھیل گیا ہے جبکہ یمنی فوج کے میزائل اور ڈرون طیارے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی تک بھی پہنچ رہے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close