اہم ترین خبریںمقالہ جات

آرمکو کو اب آرام نہیں ملے گا

سعودی عرب کے تیل کے زخائر اور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا

پہلی بار نہیں ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے زخائر اور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہو لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ ایک بڑا حملہ تھا جسے دس ڈرون طیاروں کے زریعے انجام دیا گیا ،ہلکے نوعیت کے ڈرون طیارے کم خرچے سے تیار ہونے کے سبب خودکش حملوں کے لئے استعمال کئے جانے لگے ہیں ۔
سعودی تیل کی کمپنی آرمکو سے وابستہ دو پلانٹس سعودی عرب کے مشرقی حصے میں تقریبا بحرین کے قریب واقعہ صوبہ عقیق اور خراص میں واقع ہیں
عینی شہادتوں اور نشر ہونے والی وڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ ہفتہ سنیچر کے دن یہاں قیامت کا سماں تھا
صبح فجر کے قریب ہونے والے دھماکوں نے نہ صرف اس پورے علاقے کو بلکہ پورے سعودی عرب کو ہلاکر رکھ دیا ہے اور اس وقت اس کے آفٹر شاکس سیاسی اور سیکوریٹی و امن و امان کے میدانوں میںنہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔
یمن کی تحریک مزاحمت انصار اللہ اور یمن کے عسکری ترجمان نے اس حملے کو سعودی اتحادکی یمن پر جاری حملوں کا جواب قرار دیا ۔
مشرق وسطی کے اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب کے اندر گھس کر کیا جانے والا ایک بڑا حملہ ہے جو ماضی کے دو حملوں سے مماثلت رکھنے کے باوجود تباہی اور عسکری پیمانوں میں منفرد ہے ۔
گرچہ سعودی عرب کی جانب سے یمن پر ہونے والے ان ہزاروں حملوں اس کا کوئی موزانہ نہیں کیا جاسکتا کہ جس میں ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں کی جانیں گئیں ہیں لیکن اس کے باوجود کہا جاسکتا ہے کہ یمن میںپانچ سال سے جاری اس بے مقصد جنگ میں یمن کی جانب سے ایک موثر جوابی کاروائی کی گئی ہے ۔
اس میں کسی قسم کا شک نہیں کہ عالمی برداری کی جانب سے عدم توجہ کے شکار مفلوک الحال یمن نےجہاں سب کی توجہ اپنی جانب کھنچ لی ہے وہیں پر اس نے ثابت کردیا ہے کہ اپنے حریف کو کس قدر زبردست قسم کا زک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پانچ سال سے جاری اس جنگ میں یہ یمن ہے جوچند ملکی اتحادی افواج کے مسلسل بمباری کا شکار ہے کہ جہاں عالمی رپورٹوں کے مطابق سن 2015سےاب تک 91600افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ بھوک اور بیماریوں کے سبب 85ہزار بچے جاں بحق ہوچکے ہیں
اور ان پانچ سالوں میں زمین فضا اور دریاسے یمن مکمل محاصرے میں ہے جہاں کوئی بھی امداد انتہائی چیکنگ اور اسکرینگ کے بغیر پہنچ نہیں سکتی ۔
چند ایسے نکات ہیں کہ جن کی جانب توجہ کیا جانا ضروری ہے
الف:آرامکوکا کہنا ہے کہ ان حملوں سے تیل کی پیداوار میں روزانہ 5.7 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی۔
جبکہ آرامکو نے چینی آئل کمپنی سے کہا ہے کہ آئندہ ماہ کے لئے تیل کی ترسیل تقریبا 10 دن کے لئے ملتوی کردی گئی ہے ۔
ریپڈان انرجی گروپ کے ایک نوٹ کے مطابق ، سعودی عرب کے پاس تیل کا ذخیرہ 188 ملین بیرل ہےاور اس وقت وہ اس زخیرے کا استعمال شروع کرچکا ہے ۔
واضح رہے کہ ریاض نے 1988 سے 2009 کے درمیان 10 ارب ڈالر کی لاگت سے زیر زمین تیل ذخیرہ کرنے کی پانچ بڑی سٹوریج سہولیات تعمیر کیں ہیں، جہاںلاکھوں بیرل ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کسی بھی بحران کے وقت استعمال کی جاسکتیں ہیں ۔
ان حملوں کے بعد خبریں آرہی ہیں کہ کم از کم 11 آئل ٹینکر سعودی بندرگاہوں پر خام مال کی ترسیل لوڈ کرنے کے منتظر ہیںجبکہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق یومیہ دو آئل ٹینکر کی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے اور جو آنے والے دنوں میں مزید اضافہ رکھ سکتی ہے ۔
بحری معلومات فراہم کرنے والی کمپنی میری ٹائم ٹریفک کا کہنا تھا کہ 14 سے 16 ستمبر تک سعودی بندرگاہوں سے رخصت ہونے والے ٹینکروں کی تعداد 56 ہے ، جبکہ اگست میں اسی عرصے میں یہ 58 تھی۔
ب:ان حملوں سے آرمکو کی قدر میں عالمی سطح پر گراوٹ ضرور ہوگی اور جب تک یمن پر سعودی اتحادیوں کے حملے جاری رہے گے آرمکوکے لئے بھی خطرات برقرار رہے گے ۔
ج:آرمکوپر یمن کی جانب سے ڈرون حملوں کے بعد ٹرمپ اور مائیک پیمپیو نے فورا انگلیاں ایران کی جانب اٹھانی شروع کردی ان کا کہنا تھا کہ آرمکو کو نشانہ بنانے والے دس ڈرونز کے یمن سے اڑنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔
پیمپیو اورٹرمپ نے اپنے دعووں کی کوئی دلیل یا ثبوت توپیش نہیں کیا لیکن وہ مسلسل اس کی رٹ لگارہے ہیں کہ اس کے پچھے مبین طور پر ایران کا ہاتھ ہے ۔
اسی اثنا میں سعودی بعض آفشلز کا بھی کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایرانی ساختہ ڈرون ابابیل ہوسکتے ہیں
ایران نےشدت کے ساتھ ان الزامات کی نفی کی ہے جبکہ عالمی تجزیہ کار اسے ٹرمپ انتظامیہ کی مشرق وسطی میں مسلسل ناکامی کی شکار پالیسی کا نمونہ قرار دے رہے ہیں ۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اپنے اتحادی سے 350 ارب ڈالر کے اسلحے کی ڈیل تو کرسکتا ہے لیکن وہ ان کی خواہشات کو پورا کرنے میں سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتا ۔
یہاں اہم نکتہ ہے کہ ایک بار پھر ہم اس بات کو محسوس کرسکتے ہیں کہ یمن کیخلاف قائم اتحاد کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہورہا ہے کہ یمن اس قسم کی کاروائی کرسکتا ہے ،وہ ایک بار پھر سے اسی غلطی کو دہرانے جارہے ہیں جو پانچ سال پہلے اس اتحاد کی قیادت یعنی سعودی عرب نے کی تھی کہ جس کا خمیازہ اسے اب تک بھگتنا پڑ رہا ہے ۔
وہ سوچ رہے تھے کہ یمن جیسا مفلوک الحال ملک ان کے سامنے چند ماہ سے زیادہ کھڑا نہیں ہو پائے گا اس لئے وہ مسلسل ان منصوبوں کا ذکرکرتے تھے جو یمن میں بقول ان کے حکومت کی بحالی کے بعد انجام پاینگے ۔
لیکن یمن کی جانب سے مزاحمت نے ان کے تمام تر اندازوں کو غلط ثابت کردیا ۔
سعودی عرب اس وقت یمن کے ایشو میں تقریبا خود کو تنہا محسوس کررہا ہے اس کے اتحادیوں میں سے ایک اہم اتحادی متحدہ عرب امارات کے ساتھ تنازعات اور سوڈان میں عمر البشیر کی حکومت کے خاتمے نے گرونڈمیں اس کی پکڑ کو کمزور کردیا ہے ۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق بہت سے وہ یمنی قبائل جو اس سے پہلے کسی حدتک سعودی اتحاد کے ساتھ کھڑے تھے اپنی وفاداریاں بدل چکے ہیں ۔
خطے کی عسکری اور سیاسی صورتحال بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہی جبکہ اندرونی طور پر محمد بن سلمان باجود طاقتور ہونے کے ایک طرح کےخوف اور عدم خود اعتمادی کا شکار دیکھائی دے رہا ہے۔
آرامکوکو نشانہ بنانے کے بعد انقرہ میں ترک ،ایران اور روس کے صدور نے ایک مشرکہ پریس کانفرنس میں سعودی عرب پر تنقید کے ساتھ نصیحت کرنے کی کوشش کی ۔
اردگان نے آرمکو پر حملے کے بارے گفتگو کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ ’’یہ کون ہے جس نے پہلے یمن پر چڑھائی کی تھی ‘‘؟
روسی صدر پیوٹن نے جہاں ایک طرف یہ کہہ کر اس مسئلے کو ٹال دیا کہ آرامکو ہمارے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا وہیں پر اس نے یمن میں جاری جنگ کے خاتمے پر زور دیا اور کہا کہ’’یمن کے بارے ہمارا موقف واضح ہے کہ یمن میں ایک حقیقی معنوں میں انسانی المیہ رونما ہورہا ہے اور اسے رک جانا چاہیے ‘‘
اسی اثنا میں عربی زبان کے آن لائن معروف اخبار رای الیوم کا کہنا ہے کہ یمن کے عسکری ترجمان يحي السريع نے ایک ٹیلی فون کال کے زریعے ان تمام دعووں اور الزامات کی نفی کی کہ یہ ڈرون طیارے کہیں اور سے کسی اور نے چلائے ہوں
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام ڈرون طیارے یمنی ساختہ ہیںاور یمن کے جغرافیہ کے اندر سے اڑےہیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب کے اندر ہمارے ساتھ تعاون کرنے والے افراد ہیں تو اس سے ہماری مراد کسی بھی لحاظ سے وہاں موجود کوئی خاص مسلک نہیں بلکہ ہمارے ساتھ تعاون کرنے والوں میں خود شاہی نظام سے وابستہ افراد بھی ہیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن کی عسکری فیکٹریاں اس وقت چھ ڈرون یومیہ کے حساب سے پروڈیکشن رکھتی ہیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ ہم متحدہ عرب امارات کو نشانہ کیوں نہیں بنا رہے ظاہر ہے کہ یمن پر جاری بمباری میں متحدہ امارات کی شرکت پہلی جیسی نہیں رہی جیسا کہ اس نے گرونڈ میں بھی اپنے فوجیوں کی کمی کی ہے اور انہیں واپس بلایا ہے ،لیکن اگر وہ ہم پر مزید حملے جاری رکھتا ہے تو ہم جوابی کاروائی کرینگے ۔
ان کا کہنا تھا ہم غلط بیانی سے کام نہیں لیتے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے ہم اپنے موقف کو کھلے لفظوں بہادری کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔
اخبار کے مطابق انہوں نے آخر میں یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی سعودی عر ب کے اندر پانچ سو کلومیٹر مربع علاقے پر آپریشن کرنے جارہے ہیں ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close